تلاش

آنکھیں قدرت کا بے بہا اور انمول عطیہ ہیں، آنکھ نہ ہو تو انسان ہاتھ، پائوں، ناک، کان رکھتے ہوئے بھی بے بس اور لاچار ہے۔ قدم قدم پر دوسروں کا دست نگر ہے۔ دنیا کی تمام تر رونقیں، خوشیاں اور رنگ و بُو کی محفلیں صرف آنکھوں کے دَم قدم سے قائم ہیں۔ ابن عالم رنگ و بُو میں آنکھوں والے صحیح طور پر نابینا افراد کے دُکھ اور احساسِ محرومی کو نہیں سمجھ سکتے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ آنکھوں کے بغیر زندگی بوجھ بن جاتی ہے۔ آنکھ کی ساخت اور دیکھنے کا عمل اس قدر پیچیدہ ہے کہ ہمیں قدم قدم پر قدرت کی کاری گری کا قائل ہونا پڑتا ہے۔ آنکھ ہمارے جسم میں دماغ کے بعد نازک ترین حصہ ہے‘ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قدرت نے اس کی حفاظت کے لیے اپنے طو رپر متعدد اقدامات کر رکھے ہیں۔ پلکیں گردوغبار کو اور بیرونی اشیاء کو آنکھ میں داخل ہونے سے روکتی ہیں۔ آنکھ کو صاف رکھنے کے لیے مسلسل پانی نکلتا رہتا ہے اور پپوٹے ایک منٹ میں کم از کم بیس مرتبہ حرکت کرتے ہیں جن کی وجہ سے آنکھ کو وقتی طور پر آرام مل جاتا ہے اگر تیز روشنی آنکھ کے سامنے کی جائے تو آنکھ کی پتلی سکڑ جاتی ہے اور صرف ضرورت کے مطابق روشنی آنکھ کے اندر داخل ہو سکتی ہے۔ نیند کی حالت میں آنکھ عموماً بند رہتی ہے تاکہ سوتے ہوئے کوئی چیز آنکھ کے اندر نہ پڑ جائے لیکن ان اقدامات کے ساتھ ساتھ آنکھوں کی حفاظت کیلئے کچھ ہمارے فرائض بھی ہیں۔ مشہور مقالہ ہے کہ ’’پرہیز علاج سے بہتر ہے‘‘ اس لیے آنکھوں کی حفاظت کیلئے ہر شخص کو بنیادی باتوں کا علم ہونا چاہیے تاکہ بعد میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
پڑھنے والے کمرے میں روشنی مناسب اور یکساں مقدار میں ہونی چاہیے۔ کم روشن جگہ پر پڑھنے سے آنکھوں کی بینائی کمزور ہو جاتی ہے۔ پڑھتے وقت جھکنا نہیں چاہیے اگر میز پر پڑھنا ہو تو اس کی اونچائی کرسی کے مطابق اس قدر ہو کہ بچے کو جھکنا نہ پڑے۔ پڑھتے وقت کتاب کا فاصلہ آنکھوں سے زیادہ سے زیادہ چودہ انچ اور کم از کم بارہ انچ ہونا چاہیے۔ اگر کوئی طالبِ علم شکایت کرے کہ اس کو بلیک بورڈ یا کتاب پر صاف طور پر نظر نہیں آتا تو اس کی بینائی ٹیسٹ کروا کر عینک لگوانی چاہیے اگر بروقت عینک نہ لگوائی جائے تو بچے میں بھینگا پن پیدا ہو جاتا ہے یا بینائی مستقل کمزور ہو جاتی ہے۔ روشنی سامنے سے آنکھ پر نہیں پڑنی چاہیے کیونکہ اس سے آنکھ پر بُرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ کتاب کے ورق چمک دار نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ اس سے روشنی دوبارہ آنکھوں پر پڑتی ہے۔پڑھتے وقت اگر بچے کو نظر نہ آئے تو آنکھوں کے ڈاکٹر کو دِکھانا چاہیے کیونکہ یہ سفید موتیا بھی ہو سکتا ہے اور یہ خیال غلط ہے کہ سفید موتیا صرف بوڑھوں میں ہو سکتا ہے۔ یہ پیدائشی طور پر بھی ہوتا ہے۔ خواتین جو میک اپ اور بنائو سنگھار کی بہت شوقین ہوتی ہیں ان کو پپوٹوں پر شیڈ اور آنکھوں کے اندر لکیریں ڈالنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ مصنوعی پلکیں استعمال نہ کی جائیں کیونکہ اس سے اصل پلکیں ختم ہو جاتی ہیں۔ پپوٹے متورم ہو جاتے ہیں اور آنکھیں مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اکثر عورتیں عینک کو بُرا خیال کرتی ہیں کہ اس سے خوبصورتی میں فرق آتا ہے۔  ایسی خواتین کی نظر روز بروز کمزور ہوتی جاتی ہے اور اکثر سر میں درد رہتا ہے۔
ہمارے ملک میں اکثر پڑھے لکھے لوگ بھی باقاعدہ طور پر نظر ٹیسٹ نہیں کرواتے بلکہ کسی عینک فروش سے نظر کی عینک لگوا لیتے ہیں۔ یہ صورتحال تشویشناک ہے کیونکہ غلط عینک بھی بینائی پر اثرانداز ہوتی ہے۔ہمارے مذہب میں جسم کی صفائی پر بہت زور دیا گیا ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق آنکھوں پر تازہ پانی کے چھینٹے مارنے سے بہت سکون ملتا ہے اور یہ بہت سودمند ہے۔ آنکھوں کی حفاظت کے سلسلے میں ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کبھی ایسا ٹوٹکہ یا نسخہ نہ آزمایئے جو دنیا بھر میں کامیاب اور رائج نہ ہو۔ دنیا کے ہزاروں سائنسدان برسوں کی تحقیق اور محنت کے بعد ایک دوائی کے اثرات اور ذیلی اثرات کے بارے میں فیصلہ دیتے ہیں اس سائنسی تحقیق پر بھروسہ کرنا بہتر ہے۔ ہمارے دیسی علاقوں میں آنکھوں کی بیماریوں کا علاج خودساختہ ادویات سے کیا جاتا ہے جس سے نظر بالکل ضائع ہونے کے امکانات ہوتے ہیں کوئی بھی غیرمستند دوا آنکھوں میں استعمال نہ کی جائے۔ آنکھوں پر کوئی چوٹ لگنے کی صورت میں مریض کو فوری طور پر طبی امداد کیلئے ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔