رشتہ ازدواج میں منسلک مرد اور عورت بظاہر ایک چھوٹا سا خاندان ہوتے ہیں مگر ان کی اس نجی زندگی سے معاشرے کا کتنا گہرا تعلق ہے ہم اکثر اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ اگر میاں بیوی کے درمیان ناچاقی اور جھگڑا پایا جاتا ہو تو معاشرے میں اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ہر شخص کو غصہ آتا ہے، کچھ لوگ غصے کو اپنے ٹھنڈے مزاج کی وجہ سے ٹھنڈا کر کے اس پر قابو پالیتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ غصہ کرنا جن کی عادت بن جاتی ہے۔ ایسے لوگ معمولی بات پر بھڑک اُٹھتے ہیں اور دوسروں کیلئے تکلیف کا سبب بن جاتے ہیں‘ تشدد اور مارپیٹ پر اُتر آتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ بعد میں وہ اس غصے کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔
خاندان کا ماحول
ماہرینِ نفسیات کے خیال کے مطابق یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو یہ جانتے ہی نہیں کہ انہیں غصے جیسے جذبے کا استعمال کس انداز سے کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو ناگوار باتوں کا اظہار نہیں کر پاتے۔ اندر ہی اندر گھٹتے رہتے ہیں اور اس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ جب کبھی انہیں غصے کا موقع مل جائے تو برسوں کی گھٹن اور ناراضگی کا اظہار ایک لمحے میں کر گزرتے ہیں اس طرح پھٹ پڑتے ہیں جیسے آتش فشاں پھٹ پڑا ہو۔ مثال کے طور پر ایک خاندان کا ماحول ہے اس میں بڑوں کے سامنے بولنے کی اجازت نہیں ہے، اسے بہت بُرا سمجھا جاتا ہے، کوئی بات ناگوار بھی ہوتی ہے تو اس کا اظہار نہیں کر سکتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے وجود میں آگ سی جلتی رہتی ہے۔ ان کے اندر بعد میں آتش فشاںلاوا بن کر پھٹ جاتا ہے۔یعنی وہ برسوں بعد اپنےغصے کا اظہار کیا کرتے ہیں اور وہ بھی بہت سُدید ہو کر اور عام طور پر ان کی بیویاں ان کے غصے کا نشانہ بنتی ہیں۔
بدکلامی اور چڑ چڑے پن کا مظاہرہ
سوال پھر وہی ہے کہ ایسی بیویاں اپنے ایسے شوہروں کے غصے کو کیوں برداشت کرتی رہتی ہیں؟ ہمارے معاشرے میں اس کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ تو اخلاقی اور مذہبی ہے‘ بیوی شوہر کے ساتھ وابستہ ہو گئی تو پھر تازندگی اس کے ساتھ رہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ میاں بیوی شادی سے پہلے ایک دوسرے کے مزاج سے ناواقف ہوتے ہیں اس لیے لڑکی کو اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کہ وہ جس سے شادی کر رہی ہے وہ کس مزاج کا ہے۔ کچھ ایسی عورتیں بھی ہوتی ہیں جو اس بات کا اعتراف کرتی ہیں کہ ان کے شوہر ان ہی کی وجہ سے غصہ میں آیا کرتے ہیں وہ اپنے شوہروں سے بدکلامی کرتی ہیں، چڑچڑے پن کا مظاہرہ کرتی ہیں یا اسی قسم کی دوسری حرکتیں کرتی ہیں جن کی وجہ سے ان کے شوہر ان پر چیختے چلاتے رہتے ہیں‘اس فعل میں ستر فیصد قصور ان عورتوں کا ہی ہوا کرتا ہے جو اپنے شوہر کوغصہ دلانے پر مجبور کرتی ہیں۔
خوشگوار تبدیلیاں خوشگوار ازدواجی زندگی
یہ ایک مسئلہ ہے جس کی طرف بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ گھر کے سکون سے زندگی میں سکون ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ غصہ کرنے والے مردوں کی صرف بیویوں کو ہی پریشانیاں اُٹھانی پڑتی ہیں بلکہ خود وہ مرد بھی مصیبت میں مبتلا رہتے ہیں لیکن عورت کو زیادہ پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اسی لیے اس صورتحال کو تبدیل کرنے کیلئے اسے زیادہ محنت کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے اسے خود اپنا اور اپنے رویے کا جائزہ لینا ہوگا۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ کہیں خود وہی اپنے شوہر کے غصے کو تحریک دِلانے کا سبب تو نہیں بن رہی ۔ یہ درست ہے کہ فطرت یا عادت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا لیکن چند باتوں پر عمل کر کے کسی حدتک خوشگوار تبدیلیاں ضرور لائی جا سکتی ہیں۔ غصے کا جواب غصے سے دینے کی بجائے کوئی اور انداز اختیار کرنے کی کوشش کریں۔ اگر آپ ہمیشہ اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرنے کیلئے بحث کیا کرتی ہیں تو ایک آدھ بار خود کو قصور وار کہہ کر بھی اعتراف کر لیا کریں کہ فلاں معاملے میںمیری غلطی تھی۔سب سے بہتر تو یہی ہے کہ شوہر کے غصے کے وقت اس سے خود بھی تکرار نہ شروع کر دیں بلکہ اسے دل کی بھڑاس نکالنے کا موقع دیتی رہیں۔ اگر وہ کسی اُلجھن میں مبتلا ہے تو سنجیدگی اور ہمدردی کے ساتھ اس کے مسئلے کو سننے کی کوشش کریں۔ اگر ہو سکے تو اسے حل کرنے کے مشورے دیں، اس کا ساتھ دیں۔ اس کے غصے کے اُتر جانے کے بعد اسے احساس دِلاتی رہیں کہ اس نے غصے میں آ کر کتنا نقصان کر دیا تھا۔ شاید اس طرح وہ شرمندگی محسوس کرے۔ اس طرح کی اور چھوٹی چھوٹی ترکیبیں ہو سکتی ہیں جن پر عمل کر کے آپ اپنے شوہر کے غصے سے نجات حاصل کر سکتی ہیں اور آپ کا ازدواجی رشتہ مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔