کمر کا درد کسی وقت بھی ہو سکتا ہے، بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے یا نیچے پڑے اخبار کو اُٹھاتے وقت ٹیس اُٹھتی ہے اور پھر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی نے گردوں میں خنجر گھونپ دیا ہے۔بعض اوقات یہ درجہ بہ درجہ ہوتا ہے۔ مثلاً پہلے ہڈیوں کے جوڑ میں‘ پھر عضلات میں‘ پھر ریڑھ کے ستون اور آخر میں نچلی کمر میں۔ یہ درد اچانک ہو یا بتدریج انتہائی شدید اور معذور کر دینے والا ہوتا ہے اور دنوں، ہفتوں یہاں تک کہ مہینوں تک رہ سکتا ہے۔ اس کی زد میں صرف چند بدقسمت لوگ ہی نہیں آتے بلکہ ہم میں سے 80فیصد بھی کبھی نہ کبھی اس کا مزہ ضرور چکھتے ہیں لیکن ماہرین یہ خوش خبری سناتے ہیں کہ کمر کے اکثر دردوں سے بچا جا سکتا ہے اور ان کی شدت کو کم کیا جا سکتا ہے۔
ایک غیر ملکی عالمی شہرت یافتہ ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ ’’چند مخصوص ورزشوں سے کمر مضبوط ہو جاتی ہے اور اس میں لچک آ جاتی ہے۔ ان کی بدولت مختلف قسم کی کمر درد کی تکالیف سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے‘‘۔درد کمر کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں، ان میں سے زیادہ عام یہ ہیں:(۱) کار کے حادثے یا کھیل کی چوٹ(۲) کمر اور شکم کے عضلات اور بندھنوں کا انحطاط (بگاڑ) اس حد تک کہ وہ سہارا دینے کے قابل نہ ہوں۔(۳) جوڑوں کا ورم ۔دبائو جس سے کمر کے عضلات میں اینٹھن ہو جائے یا ریڑھ کی ہڈی پر زور پڑے۔چند اور عوامل بھی اس کا سبب بن سکتے ہیں۔ مثلاً میز پر گھنٹوں بیٹھنا، گھنٹوں موٹرکار چلانا، بیٹھنے یا چلنے کا ناقص انداز، بکثرت شراب خوری اور سگریٹ نوشی۔ ان عوامل سے ہڈیوں میں مسام بڑھ جاتے ہیں۔سائنس دانوں کا ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ سگریٹ کے کیمیائی اجزاء کے بداثرات سے ریڑھ کے ستون اور اس کے مہروں کو پوری غذائیت حاصل نہیں ہوتی جس سے اس میں انحطاط آنا شروع ہو جاتا ہے۔
ان عوامل کی وجہ سے اکثر لوگوں کے عضلات تن جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان پر زیادہ زور پڑتا ہے۔ تنائو کی وجہ سے جوڑ بھنچے رہتے ہیں جس سے ریڑھ کے ستون میں درد کی لہریں اُٹھتی ہیں اس سے گردن، نچلی کمر، بازوئوں اور ٹانگوں میں درد بڑھ جاتا ہے۔
ریڑھ کا ستون بھنچ جاتا ہے تو مہرے کسی قدر باہر کو نکل آتے ہیں یا اپنی اصل جگہ سے سرک جاتے ہیں اس کو اصطلاحی زبان میں ’’مہروں کا ہرنیا‘‘ کہتے ہیں۔ ایک بار جب مہرہ اصل جگہ سے سرک جاتا ہے تو لنگڑی (شیاٹک) عصب کو دباتا ہے۔ شیاٹک عصب کمر سے ٹانگوں تک جاتا ہے اور درد کا سرکٹ کمر سے ٹانگوں تک پھیل جاتا ہے۔
مخصوص ورزشیں
دستی علاج کے ماہر ڈاکٹر لیونارڈ فایے نے اس موضوع پر ایک کتاب "Good Bye Back Pain" تحریر کی ہے جس میں انہوں نے ورزشیں تجویز کی ہیں جن سے بہت سے ضرورت مند فائدہ اُٹھا چکے ہیں۔ یہ ورزشیں بندھنوں اور عضلات کو پھیلاتی، مضبوط کرتی اور لچک دار بناتی ہیں اور اعضاء سے مربوط رکھتی ہیں ۔اس علاج سے تقریباً ایک ماہ میں درد میں کمی اور بہتری محسوس ہونے لگتی ہے۔عموماً یہ ورزش پچیس سے تیس سیکنڈ کی ہوتی ہے۔ روزانہ بیس منٹ یہ ورزش کریں اور پھر گہرے سانس لیں۔ ہر ورزش کے بعد گہرے سانس کے لیے پانچ سکینڈ وقت دیں۔
کرسی پر بیٹھنا
کرسی پر بیٹھ کر آگے کی طرف جھکیں جس وقت درد محسوس ہو، گہرا سانس لیں اور آرام کریں اس سے ریڑھ کے ستون، کمر کے عضلات اور بندھنوں میں پھیلائو آتا ہے۔
گھٹنے کو پکڑنا
سیدھی پشت والی کرسی پر بالکل سیدھے بیٹھیں۔ دائیں گھٹنے کو اوپر اُٹھا کر دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیں اس کو اپنی چھاتی کی جانب کھینچیں۔ جتنا اونچا جا سکتا ہے اس کو لے جائیں پھر یہ عمل بائیں گھٹنے سے کریں۔
پائوں کو پھیلائیں
اوپر والی پوزیشن اختیار کریں۔ گھٹنے کو پکڑ کر دائیں ٹانگ اونچی کرکے چھاتی کی طرف لے جائیں۔ گھٹنے کو آہستہ سے بائیں کندھے کی طرف حرکت دیں۔ اس سے پائوں اور کمر کے عضلات میں پہلی ورزش سے کچھ زیادہ پھیلائو ہوتا ہے۔اب بائیں ٹانگ سے یہی عمل کریں۔
ران کی ورزش
کرسی پر بیٹھ کراپنا دایاں پائوں بائیں ران پر رکھیں، گھٹنے سے نزدیک اب دائیں گھٹنے کے اندرونی حصے اور ران کو نیچے فرش کی طرف آہستہ آہستہ لے جائیں، ران اور نچلی کمر کے عضلات پھیلاتے ہوئے اب دوسری ٹانگ سے یہ عمل دہرائیں۔
ٹخنے کو کھینچنا
سیدھی پشت والی کرسی کے پیچھے کھڑے ہو کر سہارے کے ساتھ اس کو پکڑ لیں اب اپنے دائیں ہاتھ سے دائیں ٹخنے کو پکڑ کر ٹانگ کو پیچھے کھینچیں یہاں تک کہ ایڑھی دائیں کولہے سے جا لگےپھر یہ عمل بائیں ٹخنے سے کریں اگر آپ گھٹنے کو پچھلی طرف کر سکیں تو پھیلائو اور زیادہ ہوگا۔
لیٹنا
پشت فرش سے لگا کر لیٹ جائیں، دونوں ہاتھوں سے گھٹنے کو پکڑیں اور اسی کو چھاتی کی طرف کھینچیں اب دوسری سائیڈ سے یہی عمل کریں۔
ان ورزشوں سے آپ اپنے جسمانی دردوں کا بغیر ادویات خود علاج کر سکتے ہیں۔