تلاش

فرمان حضرت امام علی نقی سلام اللہ ورضوانہ علیہ
’گرمیوں میں کھانا پکانے کیلئے بہترین تیل تل کا ہے‘‘
تلوں کے تیل پر جدید میڈیکل ریسرچ 
تل کی 3اقسام ہوتی ہیں۔یہ سفید، کالے اور لال رنگ میں پائے جاتے ہیں۔ لیکن کالے اور سفید تل زیادہ مشہور ہیں۔ تل کے بیج پیس کر ان کا تیل نکالاجاتا ہے جسے میٹھا تیل کہتے ہیں۔یہ تیل ہلکا پھلکا اور چکنائی سے پاک ہوتا ہے اور آسانی سے جلد میں جذب ہو جاتا ہے۔سیاہ تلوں سے نکلنے والاتیل کھانے پکانے اور ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے جبکہ سفید تلوں کے تیل کو سر میں لگانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔اس وقت مارکیٹ میں نقصان دہ فیٹس والی اشیاءدستیاب ہیں، جبکہ تلوں کا تیل پولی ان سیچوریٹڈ اور مونو سیچوریٹڈفیٹس سے بھرپور ہوتا ہے جبکہ اس میں سیچوریٹڈ فیٹس کم ہوتے ہیں جو اسے دل کے لیے صحت مند اور کولیسٹرول کی سطح کنٹرول میں رکھنے کے قابل بناتے ہیں۔طبی ماہرین ایک طویل تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کھانا پکانے میں پولی ان سیچوریٹڈ یا مونو ان سیچوریٹڈ چکنائی والے تیل استعمال کیے جائیںاور یہ خصوصیات تل کے تیل میں موجود ہیں۔
 ذیابیطس،بلڈپریشر،کینسر سے محفوظ رکھتا ہے
یہ ذیابیطس،بلڈپریشر،کینسر،ہڈیوں کی کمزوری،جلد کو پہنچنے والے نقصانات،دل کی بیماریوں،منہ کی بیماریوں،اور کشیدگی سے بچاتاہے اورجسم کو ڈی ٹاکسی فائی کرتاہے۔تل کا تیل میگنیشیم ، کیلشیم ، زنک ، آئرن ، فاسفورس ، پروٹین اور وٹامن بی اور B6 سے بھرپور ہوتا ہے۔گرمیوں میں کھانے پکانے میںتل کے تیل کا استعمال بہت ساری بیماریوں کے خلاف مزاحمت فراہم کرتا ہے۔تل کا تیل اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی سوزش کی خصوصیات اور مہاسوں کو کم کرتا ہے ، ذیابیطس کے اثرات کو کم اورجوڑوں کے درد کو روکتا ہے۔ ایک حالیہ تحقیق میں ، ہائی بلڈ پریشر کے شکار افراد کو ایک مہینے کے لئے تل کا تیل دیا گیا تھا اور ایک ماہ کے آخر میں ان کا بلڈ پریشر کافی حد تک کنٹرول ہو گیا
صحت کے لیے فائدہ مند اینٹی آکسائیڈنٹس 
 تلوں کے تیل میں 2 اینٹی آکسیڈنٹس موجود ہوتے ہیں جو صحت پر طاقتور اثرات مرتب کرتے ہیں، اینٹی آکسیڈنٹس نقصان دہ فری ریڈیکلز سے خلیات کو پہنچنے والے نقصان کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں، خلیات میں فری ریڈیکلز کا اجتماع ورم اور امراض کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ تلوں کے تیل کا استعمال دل کے خلیات کو بھی نقصان سے بچاتا ہے۔
کچھ تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا ہے کہ تلوں کے تیل سے سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعوں سے ہونے والے نقصان سے تحفظ ملتا ہے، جو جلد کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں، اس کی ممکنہ وجہ اینٹی آکسیڈنٹس کی موجودگی ہے۔ درحقیقت اس میں الٹرا وائلٹ شعاعوں کے خلاف 30 فیصد مزاحمت کی صلاحیت موجود ہے جبکہ دیگر تیل جیسے ناریل، مونگ پھل اور زیتون کے تیل میں یہ صلاحیت 20 فیصد ہے۔روزمرہ غذا میں اس تیل کا استعمال بے حد مفید ہے۔