زید ابنِ وہب کے ایک اور قصہ میں مروی ہے کہ ایک روز وہ کوفہ کی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ان کے پاس ایک آدمی آیا اس کا پیٹ بڑھا ہوا تھا اس نے کہا کہ مجھ کو کوئی علاج بتلائیے میرا پیٹ ایسا ہی رہتا ہے چاہے میں کھاؤں یا نہ کھاؤں اس نے کہا کہ علاج معلوم کر رہا ہے حالانکہ آنے والے سال میں آج کے دن یہ مر جائے گا وہ آدمی چلا گیا اور آئندہ اسی دن آیا ان کے پاس آدمی بیٹھے ہوئے تھے ان سے محاظب ہو کر کہا کہ یہ شخص جھوٹا ہے اس نے ایسے ایسے کہا تھا اور میں نے انہیں مرا انہوں نے کہا تیری بیماری یعنی پیٹ کا زیادہ موٹا ہونا یہ اب بھی ہے یا نہیں اس نے کہا یہ تو ختم ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا میں نے تجھ کو اسی لیے ڈرایا تھا۔