حضرت احمد بن حنبل ؒکے ہمعصر مشہور محدث حضرت سید نا احمد بن نصر بن مالک خزاعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک عجمی کنیز کوکوئی ( جن ) ایسی اذیت دیتا کہ وہ تکلیف کے مارے زمین پر گر جاتی۔ میں نے اس ( جن ) سے کہا : اے مخلوق خدا ! تم اس کنیز کو نہیں بلکہ در حقیقت ہمیں اذیت دیتے ہو ۔ (اس پر ) کنیز نے عجمی ہونے کے باوجود فصیح عربی زبان میں گفتگو شروع کی اور کہنے لگی :” اے احمد بن نصرؒ !ٹھیک ہے ‘میں چلا جاتا ہوں اور کبھی لوٹ کر نہیں آؤں گا لیکن حضرت جب آپ رات کو نماز کیلئے اٹھتے ہیں اور وضو کرتے ہیں تو اپنا ہاتھ دیوار پر نہ رکھا کریں کیونکہ آپ کا ہاتھ ہمارے جن بھائیوں پر جا پڑتا ہے جس سے ہمیں تکلیف پہنچتی ہے نیز اپنی بیٹی سے کہیے کہ رات کے وقت اپنے بال نہ کھولا کرے ۔ " آپ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا: "تم نے ہمیں بھلائی کی باتیں بتائیں، اب کوئی ایسا طریقہ بھی بتاؤ جس کے ذریعے ہم تم سے چھٹکارا حاصل کرسکیں ؟ اس جن نے کا غذ قلم لانے کا مطالبہ کیا۔ جب یہ دونوں چیزیں فراہم کر دی گئیں تو اس نے کہا: لکھئے
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمَآءَ وَوَضَعَ الْاَرْضَ وَنَصَبَ الْجِبَالَ وَاَجْرٰی الْبِحَارَ ، وَاَظْلَمَ اللَّیْلَ وَاَضَاءَ النَّہَارَ وَخَلَقَ مَایُرٰی وَمَالَا یُرٰی لَمْ یَحْتَجْ فِیْہِ اِلٰی عَوْنِ اَحَدٍ مِّنْ خَلْقِہٖ وَفَرَ قَ الْاَدْیَانَ فَجَعَلَ اَخَصَّ الْاَدْیَانِ الْاِسْلَامَ ، فَسُبْحَانکَ َما اَعْظَم شَاٰنَکَ ِلمَنْ تَفَکَّرَفِیْ ُقدْرَ ِتِکَ عَلَوْتَ بِعُلُوِّکَ وَدَنَوْتَ بِدَنُوِّی ، وَقَھَرْ تَ خَلْقَکَ بِسُلْطَانِکَ فَالْمَعَادِی لَکَ مِنْھُمْ فِیْ النَّارِ وَالْمُذْلَلِ لَکَ نَفْسَہُ مِنْھُمْ فِیْ الْجَنَّۃِ ، اَمَرْتَ بِالدُّعَاءِ وَضَمَنْتَ الْاِجَابَۃَ اَنْتَ الْقَوِیّ فَلاَ اَحَدٌ اَقْوٰی مِنْکَ ، وَاَنْتَ الرَّحِیْمُ فَلَیْسَ اَحَدٌ اَرْحَمَ مِنْکَ وَرَحِمْتَ یُوْسُفَ فَنَجَّیْتَہُ مِنَ الْجُبِّ وَرَحِمْتَ یَعْقُوْبَ فَرَ دَدْتَ عَلَیْہِ بَصَرَہُ وَرَحِمْتَ اَیُّوْبَ فَکَشَفْتَ عَنْہُ بَلَاءَ ہُ وَرَحِمْتَ یُوْنُسَ فَنَجَّیْتَہُ مِنْ بَطَنِ الْحُوْتِ اَسْئَالُکَ وَاَرْغَبُ اِلَیْکَ فَاِنَّکَ مَسْؤُوْلٌ لَمْ یُسَأْلْ مِثْلُکَ یَا قَاصِمَ الْجَبَابِرَۃِ وَ یٰادَیَّانَ الدِّیْنِ الَّذِیْ یُحْیِی الْعَظَامَ وَھِیَ رَمِیْمٌ وَیَا مُجِیْبَ الْمُضْطَرِیْنَ قَضْیَۃٌ لِخَلْقِکَ عَلٰی اَنْ یَّمُرُّ وْ ا عَلٰی اَدَقَّ مِنَ الشَّعْرِ وَاَحَدَّ مِنَ السَّیْفِ عَلٰی وَادِیْ جَھَنَّمَ فَاَنْقَذْتَ مَنْ شِئْتَ وَاَغْرَقْتَ مَنْ شِئْتَ مِنْھُمْ فِیْ نَارِ جَھَنَّمَ اَنْتَ ابْتَلَیْتَ فُلَانَ اِبْنَ فُلَانَۃِ بِھَذِہٖ الْاَوْجَاعِ وَالْاَسْقَامِ وَالرِّیَاحِ وَاَنْتَ الْقَادِرُ عَلٰی الذِّھَابِ بِہٖ فَاذْھَبْ بِہٖ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنْ۔
پھر اُس نے ہمیں کچھ قرآنی آیات بتائیں :
وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلَّا دُعَاءً وَّنِدَاءً} [البقرة: ١٧١] إِلٰى قَوْلِهِ {فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ} [البقرة: ١٧١] ، {اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا أَنْزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِنَ السَّمَاءِ} [المائدة: ١١٤] إِلٰى قَوْلِهِ {الرَّازِقِينَ} [المائدة: ١١٤] ، {قُلِ ادْعُوا اللّهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَنَ اَيًّامَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنٰى} إِلَى قَوْلِهِ {سَبِيلًا} [آل عمران: ٩٧] ، {وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا} [الإسراء: ١١١] إِلٰى آخِرِ السَّورَةِ، {فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهِ مَكَانًا قَصِيًّا} [مريم: ٢٢] إِلٰى قَوْلِهِ سُبْحَانَهُ {إِذَا قَضٰى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهٗ كُنْ فَيَكُونُ} [آل عمران: ٤٧] ثُمَّ يَقْرَأُ {إِنَّ رَبَّكُمُ اللّهُ الَّذِيْ خَلَقَ السّٰمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ} إِلٰى قَوْلِهِ {مِنَ الْمُحْسِنِينَ} [الأعراف: ٥٦]
یہ آیات پڑھنے کے بعد لوہے کے ایک برتن میں پانی لیجئے اور اس پر دم کرنے کے بعد اُس شخص کو ایک یا دو گھونٹ پلا دیں جسے نظر لگی ہو یا جنون ہو یا اسے کوئی جن وغیرہ نقصان پہنچاتے ہوں۔ پانی کے چند چھینٹے اس کے منہ پر بھی ماریئے اللہ عز وجل کے حکم سے وہ ٹھیک ہو جائے گا۔(كتاب العظمة ، ذكر الجن وخلقهم الحديث ١١٥٩، ص ٤٣٤، دار الکتب العلمیہ بیروت)