حضرت زید ابنِ وہب فرماتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں گئے ہوئے تھے جب ہم ایک جزیرے پر پہنچے تو ہم نے آگ روشن کی‘ ہم نے وہاں ایک بہت بڑا حجرہ دیکھا ہمارے ایک ساتھی نے کہا کہ اس کے پاس سے اپنی آگ دور کر لیں کہ کہیں ہماری وجہ سے اس میں رہنے والی مخلوق پریشان نہ ہو جب ہم نے اپنی آگ وہاں سے ہٹا لی تو ایک آواز سنائی دی جیسے کوئی کہہ رہا ہے کہ تم نے اپنی آگ ہم سے دور کر لی اور ہم تم کو ایک بہترین علاج بتلاتے ہیں تم کو اس سے بڑا نفع ہو گا۔ وہ یہ کہ جب تمہارے سامنے کوئی مریض اپنا مرض ذکر کرے اور اس کو کو سنتے ہی فوراً تمہارے دماغ میں کوئی علاج آئے پس وہی اس کا علاج ہے‘ اسی میں اس کی شفاء ہے۔