تلاش

حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ (انصاری صحابیؓ) حضرت سید نا عوف بن عفرا رضی اللہ تعالی عنہ کی صاحبزادی اپنے بستر پر لیٹی ہوئی تھیں۔ ان کو علم بھی نہ ہوا کہ ایک سیاہ فام مخلوق ان کے اوپر بیٹھ گئی اور اس نے اپنا ہا تھ ان کے حلق میں ڈال دیا تو اچانک پیلے رنگ کا ایک کاغذ آسمان کی طرف سے گر رہا تھا یہاں تک کہ ان کے سینے پر آگرا تو اس ( مخلوق) نے اس رقعہ کو لے لیا اور پڑھاتو اس میں یہ لکھا ہوا تھا :
من رب لكين إِلَى لكين اجْتنب ابْنة العَبْد الصَّالح فَإِنَّهُ لَا سَبِيل لَك عَلَيْهَا،
 یعنی: یہ حکم نامہ لکین کے رب کی جانب سے لکین کی طرف ہے کہ نیک انسان کی بیٹی سے دور ہواس لئے کہ تمہارا اس پر کوئی حق نہیں ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ وہ سیاہ فام آدمی اٹھا اور اپنا ہاتھ میرے حلق سے ہٹایا اور اپنا ہاتھ میرے گھٹنے پر مارا۔ میرا گھٹنا بکری کے سر کی طرح ہو گیا۔ 
پھر میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور یہ واقعہ ان سے بیان کیا تو انہوں نے فرمایا: اے میرے بھائی کی بیٹی ! جب تو خاص ایام میں ہو تو اپنے کپڑوں کو سمیٹ کر رکھا کر تو ان شاء الله عز وجل یہ تمہیں ہرگز کبھی تکلیف نہیں دے گا۔ حضرت سید نا انس بن مالک ؓفرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اس لڑکی کی اس کے والد کی وجہ سے حفاظت فرمائی کیوں کہ وہ جنگ بدر میں شہید ہوئے تھے۔(دلائل النبوة، كتاب جماع ابواب نزول الواحى، ج ۷، ص (١١٦)،دار الکتب العلمیہ بیروت)