تلاش

جنات کے اندر بہت زیادہ ایک چیز خاص طور پر ہے کہ ان کی زندگی میں معاشقہ بہت زیادہ ہے۔ عشق کا مزاج بہت زیادہ ہے۔ ان کا ایک ایک فرد عاشقانہ مزاج رکھتا ہے لیکن! عشق جب بدلتا ہے وہ عشق اللہ کے حبیبﷺ کی محبت میں بدل جاتا ہے اگر عشق نہ بدلے تو پھر یہ عشق جننی سے بھی کرتے ہیں اور عورت سے بھی کرتے ہیں حتیٰ کہ مرد سے بھی کرتے ہیں۔ انسان مرد سے بھی کرتے ہیں‘ انسان عورت سے بھی کرتے ہیں‘ جننی سے بھی کرتے ہیں‘ ان کے ہاں عشق کا مزاج بہت زیادہ ہے‘ عاشقانہ مزاج اور عاشقانہ طبیعت ان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ 
انسان عورت کی جن سےعجیب داستان عشق
ایک کیس میرے پاس ایسا آیا کہ ایک جن کو ایک عورت سے عشق تھا۔ وہ عشق ایسا تھا کہ وہ جن دن رات بس اسی کے گھر کے کام کرتا تھا‘ ہرنعمت نامعلوم کہاں سے لادیتا‘ ہر مشکل سےمشکل کام ہوجاتا‘ گھر کے بجلی کے بل آئے تو اس کی ادائیگی ہوجاتی‘ پانی گیس کے بل کی ادائیگی ہوجاتی۔ گھر کاہرکام جھاڑو‘ کوئی پائپ لیک ہے سیوریج کا یا پانی تک کلیئر ہوتا۔ اس جن کو اس عورت سے عشق تھا اور عورت بھی اس سے عشق کرتی تھی۔
وہ جن مجھ سے دور ہو! میں نہیں چاہتی
 میری زندگی میں جنات کے انسانی عورتوں کے ساتھ عشق کے بے شمار واقعات آئے ہیں لیکن یہ واقعہ ایسا انوکھا ہے کہ اس میں خود اس عورت کو بھی اس جن سے عشق تھا بلکہ وہ عورت اپنے شوہر سے بہت زیادہ نفرت کرتی تھی اور اپنے شوہر کو اپنے قریب تک نہیں آنے دیتی تھی۔ دن رات بنی سنوری رہتی تھی‘ مجھے اس واقعہ کا علم اس لیے ہوا کہ میرے پاس وہ گھر والے اس واقعہ کو لے کر آئے۔ کہنے لگے کہ وہ خاتون آپ کے پاس آنے کو تیار نہیں کہ کہیں آپ ایسا عمل کریں اور وہ جن مجھ سے دور ہوجائے یہ میں نہیں چاہتی۔ 
میری دھمکی کام کرگئی!گھر والے ایک بات پر مطمئن تھے کہ ان کے گھر کے سارے کام گھر میں بیٹھے بٹھائے ہوجاتے ہیں۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ کوئی ہماری نسلیں نہیں پلیں یعنی اولاد نہیں ہے۔ آج شادی کو تیرہ سال ہوگئے ہیں۔ وہ جن شادی سےپہلے بھی اس عورت کے ساتھ تھا۔ میں نے کہا اس کے آئے بغیر میں کوئی عمل نہیں کرسکتا آخر کار بڑی مشکل سے اس خاتون کو میرے پاس لے آئے وہ خاتون گم سم میرے سامنے بیٹھی تھی‘ میں اس سے کوئی سوال کرتا تھا تو جواب نہیں دیتی تھی کوئی بات کرتا تھا تو خاموش رہتی تھی۔ آخر کار اسے میں نے دھمکی دی کہ اگر تو نے میرے کسی سوال کا جواب نہ دیا تو پھر تیرے ساتھ میں ایک اور معاملہ ہوگا وہ یہ ہوگا کہ میں اس جن کو جلادوں گا جب میں نے یہ دھمکی دی تو بولی۔ 
جن سے عشق کی کہانی خود اُسی کی زبانی
پھر میں نے اس سے پوچھا وہ جن تیرے پاس کیسے آیا؟ کہنے لگی: میں سترہ سال کی تھی‘ تو اس وقت مجھے محسوس ہوا کہ میرے بستر میں میرے علاوہ کوئی اور بھی ہے اور میرے بدن پرہاتھ پھیر رہا ہے‘ مجھے ڈر اور خوف محسوس ہوا۔ میں نے اپنی والدہ سے پہلے تو نہ کہا لیکن آخرکار ایک دن کہہ دیا تو میری والدہ نے کہہ دیا کہ نہیں تیرا وہم ہے۔ میرا ہر کام خودبخود ہونے لگا:پھر کچھ ہی عرصے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ میرے کلاس کا ہوم ورک کرنے میں کوئی میری مدد کرتا ہے‘ میرا ہر کام خودبخود ہوجاتا ہے‘ میں پانی کی خواہش کرتی گلاس بھرا ہوا میرے سامنے ہوتا بعض اوقات لائٹ جلانے اور بجھانے کی خواہش کرتی‘ دل میں  خیال آتا اور میرا کام ہوجاتاہے۔ میں حیران! مجھے احساس ہونا شروع ہوا کہ کوئی چیز ساتھ ہے اور وہ ’’جن ‘‘ہے۔ مجھے خوف محسوس ہوا لیکن یہ خدمت کوئی ایسی چیز تھی کہ آہستہ آہستہ میرے اندر کاخوف ختم ہونا شروع ہوگیا۔
بے چینی و بے قراری سے جن کا انتظار
 ایک وقت میرے اوپر ایسا آیا کہ مجھے بے چینی‘ بے کلی اور بے قراری سے اس جن کا انتظار ہوتا جب میرے کام خودبخود نہیں ہوتے تھے تو میں سمجھتی تھی کہ وہ جن میرے پاس نہیں ہے۔جن سے باتیں اور پھر تعلقات: پھر میں اس سے باتیں کرتی تھی اور مجھے سرسراہٹ اور آہٹوں میں اور ہوا کے جھونکوں کی طرح ان باتوں کا جواب ملتا تھا یامجھ پر غنودگی طاری ہوجاتی اور میں پھر اس جن کے بالکل سامنے باتیں کرتی۔ وہ انسانی شکل میں آتا اور پھر انسانی شکل میں آنے کے بعد اس نے میرے ساتھ وہ تعلقات قائم کیے جو میں زبان پر نہیں لاسکتی۔ پھر یہ سلسلہ چلتا رہا چلتا رہا اور میں نے بی ایس سی کرلی ۔اس کے بعد میں نے ایم ایس سی میں ایڈمیشن لیا تو میرے ہرطرف سےرشتے آنے لگے۔
جن سے عشق بھی اورانسان سے شادی بھی
 شکل وصورت میں کچھ اچھی ہوں بلکہ خوبصورت ہوں تو میرے رشتے آنے لگے ‘مجھے رشتوں سے خوف آتا تھا کہ میرا شوہر ہوگا جبکہ میری جن سے دوستی ہے‘ میرا شوہر کوئی اور کیسے ہوسکتا ہےجب رشتوں کی بات ہوتی تو جن بھی گھبراتا اورکہتا میں نے تمہارا رشتہ نہیں ہونے دیا اگر تم نے رشتہ کرلیا میں اس شخص کو ماردوں گا۔ میں یہ باتیں سنتی تو اور پریشان ہوجاتی اور میرا خوف اور بڑھ جاتا۔
 اور پھر میری شادی ایک انسان سے ہوگئی
ایک دن میرا رشتہ میرے والدین نے طے کردیا‘ اس دن میں بھی بہت روئی‘ جن بھی بہت رویا لیکن میں نے اپنے والدین کی خاطر اس جن کو منا لیا کہ میرے والدین کی محبت ہے اگر یہ رشتہ نہ ہوا میری والدہ جو دل اور گردوں کی مریضہ ہیں وہ مرجائیں گی۔
 آج تک سالہا سال گزر گئے ہیں میرا شوہر میرے قریب نہیں آیا اگر آنا بھی چاہے تو وہ جن فوراً آکر اسے روک دیتا ہے یا اسے کسی ایسی تکلیف‘ ڈر‘ بیماری میں مبتلا کردیتا ہے کہ وہ اپنی میں پڑجاتا ہے۔
کیا تجھے اولاد کی چاہت نہیں؟
جب یہ داستان اس نے بیان کی تو میں نے اس خاتون سے سوال کیا کہ اتنے سال تیری شادی کوہوگئے ہیں کیا تجھے اولاد کی چاہت نہیں؟ کہنے لگی کہ بعض اوقات جب مجھے خیال آتا ہے تو میں جی بھر کر روتی ہوں اور اسی وقت جن آتا ہے اور ایسی باتوں میں بہلاتا ہے اور پھسلاتا ہے کہ میں ایک پل میں پرسکون ہوجاتی ہوں۔
جنات کا لازوال اور بے مثال عشق
قارئین! یہ اس جن کا عشق تھا اور محبت تھی‘ ہاں! میں نے اس کاعلاج کیا‘ آج اس کا ایک بیٹا ہے اور مجھے پتہ چلا کہ دوسرے بچے کی آمد بھی انشاء اللہ متوقع ہے۔ جنات کا عشق لازوال اور بے مثال ہوتا ہے اور جنات کی محبتیں بہت عجیب ہوتی ہیں۔ جنات کے عشق کا ایک واقعہ:میرے پاس کوئٹہ سے ایک کیس آیا اس کیس کے اندر بھی جنات کا ایسا ہی واقعہ تھا۔ اس کی کہانی کچھ اس طرح تھی کہ وہ شخص جننی کی محبت میں مبتلا تھا ‘وہ شخص کوئٹہ سے آیا۔ اس کا ایک جننی سے عشق ومحبت اور پیار لیکن وہ پیار بھی کچھ اس طرح کا لازوال تھا۔
جنات کے کچھ ایسے افیئر جنہوں 
نے مجھے خود چونکا دیا
 یہ کچھ واقعات میں کچھ اس لیے بیان کررہا ہوں کہ جنات کی محبت‘ معاشقے اور افیئرز پیار کی کہانیاں تو بے شمار ہیں لیکن چند ایسی بیان کررہا ہوں جنہوں نے مجھے خود چونکایا کہ میرے دماغ میں عجیب وغریب کیفیت ہوئی کہ کیا جنات ایسا بھی کرسکتے ہیں ؟ کیا جنات انسانوں کیلئے ایسا کرسکتے ہیں؟ مجھےجننی سے عشق کیسے ہوا؟: وہ ایک جننی سے عشق کربیٹھا اور عشق کچھ اس طرح ہوا بقول اس کے کہ میں ہاسٹل میں پڑھتا تھا اور سٹوڈنٹ تھا۔ میں کوئٹہ سے دور ایک گاؤں کا رہنے والا ہوں۔ میں کوئٹہ کے ایک سکول میں آیا اور وہاں پڑھتا تھا۔ ایک کمرے کے بارے میں مشہور تھا کہ یہاں جنات ہیں اورقدرتی وہ کمرہ ہمیں الاٹ ہوگیا۔ ہم تین سٹوڈنٹ تھے۔ ان دو کو محسوس ہوا کہ رات کو کوئی چیز آکر ہمارا بستر ہلاتی ہے ہمیں تنگ کرتی ہے‘ ہمارے کھانے پینے کی چیزیں کھاجاتی ہے۔ وہ دونوں تو کمرہ چھوڑ کر چلے گئے لیکن میں کچھ اور مزاج کا تھا میں نے کہا میں کمرہ نہیں چھوڑوں گا۔ مجھے اور تو کچھ نہیں آتا تھا بس میری والدہ مجھے ایک بات بتائی تھی بیٹا جب کوئی خوف اور پریشانی ہو تو’’ آیۃ الکرسی‘‘ پڑھتے رہنا میں سارا دن آیۃ الکرسی پڑھتا رہتا تھا۔