تلاش

محترم شیخ الوظائف صاحب اسلام علیکم!میں جب نماز پڑھتا تھا تو اس میں بالکل خشوع خصوع نہیں ملتا تھا اورمجھے اس کی سخت تمنا تھی کہ نماز میں میرا دل لگ جائے اور اس میں روحانی کیفیات ملے۔ایک بار شب جمعہ کی محفل میں آپ نے ایک بار عصر کی نماز کے بعد سانس روک’’لَا یُجَلِّیْھَا لِوَقْتِھَا اِلَّاھُو‘‘پڑھنے کے حیرت انگیز کمالات بتائےتھے کہ اس آیت کے حصہ کو چند بار طاق تعداد میں سانس روک کر روحانیت ملتی اور روحانیت میں عروج حاصل ہوتا ہے۔میں نے اس عمل کو روزانہ عصر کی نماز کے بعد کرنا شروع کر دیا اور یہ عمل کرنے کےکچھ عرصہ بعد ہی مجھے اس کی تاثیر ملنا شروع ہو گئی۔مجھے نماز میں خشوع خضوع ملنا شروع ہو گیا اور نماز میں بہت روحانی کیفیات ملتی ہیں۔دعا کرتے وقت اکثر میری آنکھوںسےآنسو بہنا شروع ہو جاتے ہیں۔
شیطانی جناتی اثرات سے چھٹکارامل گیا
 اس کے علاوہ آپ نے عصر کی نماز کے بعد ہی ایک اور عمل بتایا تھا جس کی برکت سے جادو ٹوٹتا ہے ‘ شیطانی اثرات ختم ہوتے ہیں۔میں نے یہ عمل بھی عصر کی نماز کے بعد کرنا شرو ع کیا جس میں”یَا رحمن“ سانس روک کر 11بارپڑھنے کے لئے بتایا گیا تھا اور اسے ابھی تک جاری رکھے ہوئے ہوں۔ اس سے حقیقتاً شیطانی جناتی اثرات ختم ہوتے محسوس ہوئے ہیں۔ چند دن قبل میری چھوٹی بیٹی اور اس کے شوہرنے تقریباً ملتا جلتا خواب دیکھا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہر طرف تباہی مچی ہے۔ زمین پھٹ رہی ہے، طوفان برپا ہے، سارے گھر ملیا میٹ ہورہے ہیں لیکن ہمارا گھر اور گھر والے محفوظ ہیں۔ الحمد اللہ اب تو بلیاں بھی تنگ نہیں کرتی ہیں، پہلے تو اکثر اوپر والے پوریشن میں بیٹھ کر روتی تھیں اور عجیب ڈرائونی آوازیں نکالتی تھیں۔ کبھی مغرب کے وقت اور کبھی رات کو 12 بجے کے وقت اب بہت سکون ہے۔ فجر کی سنتوں میں پہلے الم نشرح اور دوسری رکعت میں میں الم ترکیف والی سورتیں بہت عرصے سے پڑھ رہی ہوں اور حقیقتاً وقت میں بہت برکت ہوئی ہے۔ رسالے میں پڑھا کہ ہر فرض نماز کی سنتوں میں پڑھیں اورمحفل میں بھی سنا اور شروع کیا اور واقعی بہت بہتری محسوس کی۔ جیسے کے گھر کے سارے کام میں خود کرتی ہوں۔ نمازیں وقت پر ادا کرنا قرآن پاک کی تلاوت بھی کرتی ہوں اور تسبیحات بھی پڑھتی ہوں‘ برکت کا انوکھا جہان مل گیا ہے۔
 بیعت کی تین تسبیحات(درود پاک‘ تیسرا کلمہ اور استغفار) کی تعداد بھی پڑھنے کی کوشش کرتی ہوں۔ ان تسبیحات کی بدولت یہ ہوا کہ میں نے خواب میں اپنی پنڈلی پر بال دیکھےجیسے سر پر ہوتے ہیں۔محسوس ہوا میرے اوپر بہت قرضہ ہے، میرے ماں باپ کا اور میں اس قرضے کو قرض نہیں سمجھ رہی تھی۔ جب تک والد صاحب حیات رہے میرے پاس اتنی رقم نہیں تھی کہ میں گھر کے اخراجات پورے کرسکتی۔ ان کی وفات کے بعد اللہ نے اعمال کی برکت سے اب حالات قدرے بہتر کیے ہیں، مگر اس قرض کو میں بھول گئی۔ اب اس خواب اور آپ کی روحانی محفل سننے کی بدولت مجھے قرض اتارنے کی فکر ہوئی ہے۔ اب میں نے ان کے قرض کو اتارنے کی نیت سے راہ خدا میں ہر ماہ 5 سے 10ہزار روپے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ان سب باتوں کا احساس آپ کی بدولت ہی ہمیں حاصل ہو اہے۔