تلاش

ہمارے معاشرے کی ستم ظریفی ہے کہ جب کسی کے گھر میں بیٹی پیدا ہوتی ہے تو لوگ شرم محسوس کرتے ہیں، شرم کے مارے ایک دوسرے کو مبارکباد تک نہیں دیتے۔ ایک دوسرے سے آنکھیں چراتے ہیں۔ جس کا سارا گناہ اور قصور بہو کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے، بلکہ یہاں تک بھی دیکھنے سننے اور پڑھنے میں آیا ہے کہ بہو کو گھر سے نکال دیا جاتا ہے، نوبت طلاق تک آجاتی ہے اور یوں گھروں میں لڑائی جھگڑے اور فساد برپا شروع ہوجاتے ہیں۔بعض جگہوں پر شوہر اور سسرال والوں کی طرف سے مختلف طریقوں سے ظلم کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ”ایک روایت میں آتا ہے کہ جب اللہ پاک کسی کے گھر پر نظر کرم فرماتے ہیں تو اس گھر میں بیٹی بھیج دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ جاتو اس گھر میں چلی جا ، ترے باپ کی ہر طرح کی معاونت میں کروں گا، اس سے پتہ چلتا ہے کہ گھر میں بیٹی کا آنا کتنا بابرکت اور باسعادت ہوتا ہے۔“
اب میں عبقری کے قارئین کو ایک ایسا سچا واقع سنانے جارہا ہوں جو سوفیصد سچا ہے اور ہمارے اپنے خاندان کا ہے۔ ہوا یوں کہ میرا چھوٹا بھائی کافی عرصے سے سرگودھا میں ایک کالج میں گریڈ 17میں لیکچرار ہے۔ سرگودھا شہر ہی میں رہتے ہیں لیکن اس کی بیوی یعنی ہماری بھابھی صاحبہ ایک سرکاری سکول میں ٹیچر ہے اور ان کے دو بچے ہیں۔ ایک بیٹا اور ایک بیٹی دونوں سکول چلڈرن ہیں، حال ہی میں ان کے ہاں دوسری بیٹی ہوئی ہے اور بیٹی بھی کیا بابرکت بیٹی، سبحان اللہ۔ بس اس بیٹی کا گھر میں آنا تھا کہ اس گھر پر برکتوں اور رحمتوں کا نزول شروع ہوگیا۔ ابھی اس بچی کو گھر میں آئے ایک مہینہ بھی نہیں ہوا تھا کہ بھائی جو کافی عرصہ سے گریڈ 17کی لیکچرار شپ پر گزارا کررہا تھا اس کی اسسٹنٹ پروفیسر گریڈ 18 کے عہدے پر پروموشن ہوگی۔ یوں اس کے رزق میں اضافہ ہوگیا اور پھر صرف یہی نہیں بلکہ جس سیٹ پر وہ لیکچرار تھا وہ سیٹ بھی اپ گریڈ ہوگئی اور بھائی اسی سیٹ پر بھی بطور اسسٹنٹ پروفیسر کام کرنے لگ گیا۔ اگر خدانخواستہ سیٹ اپ گریڈ نہ ہوتی تو بھائی کو کسی دوسرے کالج میں تعینات کردیا جاتا اور ہوسکتا تھا اسے سرگودھا شہر سے باہر دور دراز کسی اور شہر کے کالج میں بھی جانا پڑتا جس سے ان کے گھر میں ایک نیا مسئلہ کھڑا ہوجاتا اور پریشانی کا باعث بنتا تو اس طرح بیٹی کے گھر میں آنے سے اللہ پاک نے ان کے رزق میں اضافہ کردیا۔ سچ کہتے ہیں بیٹی جب گھر میں آتی ہے اپنا رزق اور نصیب ساتھ لے کر آتی ہے۔ یہ دعا ہے کہ اللہ پاک ہر گھر میں کم از کم ایک بیٹی ضرور دے تاکہ وہ گھرانہ اللہ پاک کی رحمتوں اور برکتوں سے محروم نہ رہے اور میری ان والدین سے بھی گزارش ہے کہ خدارا جب ان کے گھر میں بیٹی آئے تو مایوسی کی بجائے اللہ پاک کا شکر ادا کریں کہ اللہ پاک نے ان کے گھر میں اپنی رحمت بھیج دی ہے۔ ذرا ان والدین سے پوچھ کے تو دیکھو جو بیٹی کیلئے ترستے ہیں۔ بیٹا دینا، بیٹی دینا یا کچھ بھی نہ دینا، یہ سب اللہ پاک کی الٰہی قدرت کاملہ ہے۔ اس میں کسی کا دوش نہیں ہوتا۔ اللہ پاک ہم سب پر رحم فرمائے۔ (آمین)(حکیم محمد ظفر اقبال، اسلام آباد)