تلاش

بچپن کی بات ہے میں ایک دن فارغ بیٹھا تھا‘ کرنے کو کوئی کام نہیں تھا ۔ہمارا گھر بہت کھلا تھا‘ جس میں ایک طرف لکڑیاں رکھی ہوتی تھیں۔ میں نے دیکھا وہاں بلی نے بچے دئیے ہیں۔ مجھے شرارت سوجھی کہ انہیں تنگ کرتا ہوں۔ بلی جب کہیں گئی تو میں اس کے بچوں کو اٹھا کر کہیں دور چھوڑ آیا تاکہ جب بلی آئے تو اس کی بے چینی دیکھوں‘بلی جب واپس آئی تو ادھر ادھر بھاگی‘ کبھی چھت پر جائے‘ عجیب عجیب آوازیں نکالے‘ اس کے بچے اس کو کہیں نہ ملے‘ میری والدہ نے جب دیکھا تو پریشان ہوگئیں‘ مجھ سے پوچھا کہ اس کے بچے کدھر ہیں؟ میں نے کہا کہ وہ تو میں کہیں دور چھوڑ آیا ہوں‘ میری والدہ نے مجھے کہا کہ جلدی سے جاؤ اور اس کے بچے واپس لے کر آؤ‘ میں وہاں گیا ‘ بہت تلاش کیا‘ مجھے بلی کے بچے نہ ملے۔ بلی ہمارے گھر کی چھت پر آکر چلاتی تھی۔ کئی دن تک بلی ہمارے گھر میں بہت غمزدہ حالت میں غراتی رہی، مجھے اس کی آواز سن کر خوف آنے لگتا۔
 بس پھر میرے زوال کی کہانی شروع ہو گئی ۔ بلی کی ایسی بددعا لگی میں گناہوں کی زندگی میں دھنستا گیا‘ جوانی تھی دوستوں کی غلط صحبت میں رہنے لگا‘ علتوں میں مبتلا ہو گیا۔ مجھے احساس اس وقت ہوا جب پانی سر سے گزر چکا تھا۔ میری صحت دن بدن کمزور ہوتی گئی حتیٰ کہ سخت بیمار رہنے لگا اتنی بیماریوں نے گھیرا کہ میں بستر سے لگ گیا۔ میرے جسم میں خون نام کی چیز نہ رہی۔ میں سسکتا اور میری والدہ مجھے دیکھ کہ آبدیدہ ہو جاتیں۔ مجھے احساس تو اسی دن ہوگیا تھا کہ جو ظلم میں کر بیٹھا ہوں اس کی سزا مجھے کسی نہ کسی شکل میں ضرور ملے گی۔ میں نے کئی دفعہ رو رو کر ان گناہوں کی معافی مانگی ہے۔ اب میں بیماری کی شدت سے نکل آیا ہوں لیکن بیماری نے مجھے کھوکھلا کر دیا ہے۔ والدہ کو کسی نے عبقری کا بتایا تو آپ کے وظائف ٹوٹکے کرنے شروع کیے۔ آپ کے کچھ درس سنے تو احساس ہوا جو ظلم میں نے بے زبان ماں پر کیا تھا یہ سب اسی کا نتیجہ ہے کہ آج میں اس کسمپرسی کے حال میں ہوں۔میری یہ تحریر لوگوں کے لئے سبق ہے کہ کبھی کسی  جاندار پر ظلم نہ کریں‘ اگر اس کی آہ لگ گئی تو میری طرح زندگی برباد ہو جائے گی۔