محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم!آپ نے ایک روحانی محفل میں فرمایا تھا کہ دو رکعت نفل حاجات کا عمل بتایا تھا کہ اگر گھر میں کوئی چیز خراب ہو جائے تو صلوۃ الحاجات کے دو نوافل پڑھ کر دعا کرے تو ان نوافل کی برکت سے مسائل حل ہو جاتے ہیں۔چند سال پہلے کی بات ہے میرے شوہر نےتسبیح خانہ میں رمضان گزارنے کے لئے آنا تھا۔گھر میں ایک سلائی مشین تھی جو خراب ہو چکی تھی۔میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ اسے ٹھیک کروادیں۔انہوں نے اس شعبہ کے ایک مکینک کو گھر بلا کر سلائی مشین چیک کروائی۔اس مکینک چند گھنٹوں میںوہ سلائی مشین ٹھیک کر دی اور چلا گیا۔اس کے بعد میرے شوہر بھی لاہور روانہ ہو گئے۔مجھے بھی تسلی تھی کہ مشین اب ٹھیک ہو چکی ہے اور میں اپنا کام وقت آنے پر آسانی سے کرلوں گی۔
ہمارے مانگنے میں کمی خدا کے دینے میں نہیں
مجھے جب کپڑوں کی سلائی کے لئے مشین کی ضرورت محسوس ہوئی تو میں نے مشین کو استعمال کرنا چاہا لیکن مشین نہ چلی اور وہ دوبارہ خراب ہو چکی تھی۔میں نے بہت ضروری سلائی کا کچھ کام کرنا تھا۔لیکن اچانک مشین دوبارہ سے خراب ہونے کی وجہ سے میں بہت زیادہ پریشان ہو گئی ۔اسی پریشانی کے عالم میں مجھے آپ کا بتایا ہوا عمل یاد آیا۔میں نے فوراً وضو کیا اور دو رکعت صلوۃ الحاجات کے پڑھےلیکن مشین تھی کے ٹھیک ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔مجھے محسوس ہوا کہ میں نے نوافل بے توجہی سے پڑھیں ہیں‘عمل میں کمی نہیں بلکہ میرے مانگے میںہے۔میں نے دوبارہ سے صلوۃ الحاجات کے دو نفل یقین‘ توجہ اور دھیان کے ساتھ پڑھیں اور اللہ سے اپنے مسئلے کے حل کے لئے دعاکی۔اللہ نے ایسا کرم کیا کہ وہ مشین بغیر کسی مکینک کو دوبارہ دکھائے خود ہی ٹھیک ہوگئی۔وہ دن اور آج کا دن اللہ کا شکر ہے دوبارہ میری سلائی مشین خراب نہیں ہوئی۔جس کے بعد مجھے اس بات کا پختہ یقین ہوگیا کہ اللہ کے دینے میں کوئی کمی نہیں ہے‘ کمی صرف ہمارے مانگنے میں ہے۔
گاڑی کو اچانک حادثہ
ایک مرتبہ میرے شوہر کمپنی کی گاڑی میں ڈیوٹی سے واپس آرہے تھے کہ راستے میں بکری کا ایک بچہ سامنے آگیا‘ اسے بچانے کی کوشش بھی کی مگر بکری کا بچہ تو بچ گیا لیکن اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ وہاں پر لوگوں کو بہت زیادہ مجمع لگ گیا۔جو شخص بکریاں چرا رہا تھا اس نے گاڑی کی چابی چھین لی اور دھمکیاں دینی شروع کر دی کہ مجھے اس کا معاوضہ دو ورنہ تمہیں یہاں سے جانے نہیں دیں گے۔میرے شوہر نے ان کو سمجھانے کی کوشش کی اس میرا کوئی قصور نہیں بکری اچانک گاڑی کے سامنے آگئی جسے میں نے بچانے کی پوری کوشش کی۔مگر وہ شخص کسی بھی طرح سے ماننے کو تیار نہ تھا۔اتنے میں مغرب کی اذان شروع ہو گئی۔میرے شوہر نے ان کے ساتھ جو گاڑی میں دفتر کے ساتھی تھےانہیں نماز پڑھنے کے لئے قریبی مسجد میں لے گئے۔وہاں مغرب کی نماز کے بعد میرے شوہر نے دو رکعت صلوۃ الحاجات کے پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی۔نماز پڑھنے کے بعد شوہر جب گاڑی کے پاس پہنچے تو حیران کن طور پر وہاں کوئی بھی شخص موجود نہ تھا۔ایک شخص میرے شوہر کے پاس آیا اور ان کو گاڑی کی چابی واپس کر دی۔میرے شوہر نے اس شخص سے پوچھا کہ سب لوگ جو جمع تھے وہ کہاں گئے اور جو شخص پیسوں کو مطالبہ کر رہا تاتھا کہ پیسے لئے بغیر گاڑی کی چابی نہیں دوں گا وہ کدھر ہے۔اس پر اس شخص نے بتایا کہ جب آپ لوگ نماز پڑھنے کے لئے گئے تو جو شخص بکری کا اصل مالک تھا جب اس سے رابطہ کر کےساری صورتحال بتائی گئی تو اس نے کہا کہ یہ سارا واقعہ تو اللہ کی مرضی سے ہوا ہے اس میں گاڑی والوں کا کوئی قصور نہیں ہے اس لئے انہیں جانے دو۔میرے شوہر نے بتایا کہ وہ حیران ہو گئے کہ اچانک یہ سارا منظر کیسے بدل گیا پہلے ایسا لگ رہا تھا کہ آسانی سے یہ معاملہ حل ہونے والا نہیں ہے اور گاڑی بھی کمپنی کی ہے اگر اسے کسی نے نقصان پہنچا دیا تو پھر کمپنی مالکان کی طرف سے بھی پریشانی کا سامنا ہو سکتا تھا۔اس کے بعد میرے شوہر کو فوراً خیال آیا کہ یہ آسانی اور عافیت والا معاملہ دو رکعت نفل صلوۃ الحاجات کے بعد اللہ سے دعا مانگنے کی وجہ سے ہوا ہے اور ان نوافل کی برکت سے اللہ نے اس مشکل سے نکالا ہے۔اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے آپ جیسارہبر اور راہنما عطا کیا جو عبقری رسالہ کے زریعے ہماری بہترین راہنمائی کر رہے ہیں۔