محترم شیخ الوظائف صاحب السلام علیکم!اللہ کریم آپ پر‘ آپ کے والدین اور اہل خانہ پر ہر وقت رحمت‘برکت اور نعمتوں کی بارش برساتا رہے اور آپ سے سدا انسانیت کے نفع کا کام لیتا رہے آمین۔عبقری قارئین کی خدمت میں پچھلے سات سال اپنے تجربات لکھ کر بھیج رہا ہوں تا کہ انسانیت کو نفع پہنچانے کا مشن جو آپ لے کر چل رہے ہیں اس میں میرا بھی کچھ حصہ ڈل جائے۔اس ضمن میں آج بھی اپنے کچھ تجربات لکھ رہا ہوں۔اگر کسی کو سر میں درد ہوتا ہو تو رات کو کھانا کھانے کے بعد تھوڑا سا گڑ کھا لے اور اس کے بعد کچھ بھی نہ کھائے۔اس کام کو اپنے معمول میں شامل کر لے ان شاءاللہ سر درد ختم ہو جائےگا۔
ایک دن میں اپنے مطب میں بیٹھا تھا کہ میرے پاس ایک مزدور آیا اور اس نے مجھے اپنا واقعہ سنایا جو عبقری قارئین کی نذر کر رہا ہوں۔11 سال پہلے کا واقعہ ہے مجھے ٹائیفائیڈ ہو گیا۔کافی ڈاکٹروں اور حکماء سے علاج کر وایا مگر شفاء نہ ہوئی۔میںمزدوری کرنے سے بھی عاجز آگیا تھا جس وجہ سے گھر میںنوبت فاقوں تک پہنچ گئی۔ایک دن ایک غریب مزدور میرے گھر آیا اور کہنےلگا کہ میں تمہارا علاج کروں گا اور وہ بھی بالکل مفت‘ شرط صرف اتنی ہے کہ تمہیں 2 سے 3 دن تک میرے گھررہنا ہوگا۔وہ مزدور جلیل کہنے لگا میں نے حامی بھر لی۔جب میں اس کے گھر پہنچا دیکھا تو ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جہاں مجھے لے جایا گیا۔مجھے اس نے بیٹھنے کا کہا اور خود کہیں باہر چلا گیا۔تھوڑی ہی دیر میں وہ مزدور ساتھی تندور سے تین روٹیاں لے کر واپس آیا جس میں سے دو روٹیاں وہ اپنے لئے اور ایک روٹی میرے لئے لے کر آیا تھا۔اس نے روٹی کو پانی میں بگھو کر نکالا اور کہا اسے سالن کے ساتھ کھا لو۔میں نے اس روٹی کو کھا لیا۔مجھے خلاف معمول رات بھر بخار نہ ہوا۔میں دو دن میں صحت یاب ہو چکا تھا مگر اس کے باوجود میں تیسرے دن بھی اسی کے گھر میں رہا تا کہ کہیں دوبارہ بخار نہ ہو جائے۔اس نے تیسرے دن بھی روٹی کو بھگو کر مجھے سالن کے ساتھ کھلایا۔تین دن کے بعد بھی مجھے بخار نہ ہوا اور وہ مزدورجو میرا علاج کر رہا تھا کہنے لگا کہ اب تم تندرست ہو گئے ہو۔اس لئے اب گھر جا سکتے ہو۔یہی تمہارا علاج تھا۔وہ محسن جس نے میرا علاج کیا مزید کہنے لگا کہ یہ عمل اگر ایک بار ہی کر لیا جائے تو ٹائیفائیڈ بخار جڑوں سے ختم ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ اس روٹی اور سالن سے اندر کے زخم اور جراثیم بھی ختم ہو جاتے ہیں۔وہ مزدور جو مجھے اپنا واقعہ سنا رہا تھا کہنے لگا اس بات کو کئی سال بیت چکے ہیں مگر مجھے دوبارہ کبھی ٹائیفائیڈبخار نہیں ہوا۔