سفید آٹے کے پراٹھے
موسم سرما ہو یا چھٹیوں کے دن آئیں تو ہم سفید آٹے کے پراٹھے کھاتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ سفید آٹے میں سے بھوسی نکال لی جاتی ہے، اسی طرح پراٹھے تو بڑے شاندار بن جاتے ہیں مگر صرف شکلاً خوبصورت ہوتے ہیں غذائیت ان میں نام کو نہیں ہوتی۔
بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ آٹے کوبھی ایک کمیائی مادے (Clorox)سے بلیچ کیا جاتا ہے۔ یہ ہر کیمیائی عنصر کی طرح زہریلا ہوتا ہے۔ یہ آٹا فورٹیفائیڈ کہلاتا ہے۔ اس آٹے کو معدنیات اور وٹامنز کی اضافی خوبیوں سے بھرپور کہا جاتا ہے۔ غذائیت کے یہ ماہرین فورٹیفائیڈ آٹے میں سرطانی مادے Carcinogenicجیسے عنصر کو شامل کرتے ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ ایسے محلول پرمشتمل کوئی خوراک استعمال کرنے سے گریز کیا جائے۔
پیٹ کی بے شمار بیماریوں کی ایک وجہ فائبر کی کمی ہوتی ہے، فائبر یعنی ریشے کو آٹے میں موجود بھوسی Branکے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے۔ جدید تحقیق بتاتی ہے کہ آٹے کے چھان (بھوسی) قبض اور پیٹ کی دیگر بیماریوں کے لیے بہترین دوا ہے۔ یہ ذیابیطس اور بلڈپریشر کے مریضوں کے لیے انتہائی مفید ہے۔ اس سے ریشے (فائبر) کے علاوہ وٹامن بی کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے جو جسمانی طاقت کا باعث ہوتی ہے، کوشش کریں کہ اعلیٰ معیار کی گندم سے قدرتی پتھر والی چکیوں پر پسائی کیا جانے والا آٹا خریدیں تاکہ اس کے اجزاء دوران پسائی ضائع نہ ہوں۔
گڑ کو دقیانوسی زمانے کی پیداوار نہ سمجھئے!
اسی طرح ری فائن شوگر کے استعمال کو طرز زندگی میں شامل کرلیا گیا ہے اور ہم گُڑ یا برائون شوگر کودقیانوسی زمانے کی پیداوار سمجھنے لگے ہیں۔ یہ ری فائن شکر تو قوت مدافعت کو زائل کرتی ہے۔ دل کی شریانوں کوسکیڑتی اور خون میں خرابی کا باعث بنتی ہے۔یہ بڑھتے ہوئے بچوں کے لیے انتہائی مضر صحت اس لیے ہے کہ ان کے دانتوں کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے لگتی ہے۔ ہر طرح کی ٹافیز اور بسکٹس کے علاوہ چاکلیٹ میں ری فائنڈ شوگر استعمال ہوتی ہے۔ اسی لیے کھانے کی اشتہاکے وقت دل سے نہیں دماغ سے فیصلہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ کھایا جائے یا چھوڑ دیا جائے۔
کھانے کے فوراً بعد پھلوں کا جوس پیجئے!
کچھ بچے اور کئی بڑے بھی سافٹ ڈرنکس کے ساتھ کھانا پسند کرتے ہیں۔ شادیوں کی تقاریب میں کولڈ ڈرنکس نہ ہوں تولوگ بور ہونے لگتے ہیں۔ آئیے ہم آپ کو بتائیں کہ کاربونیٹیڈ سافٹ ڈرنکس میں غذائی اجزاء کی کیا تراکیب شامل ہوتی ہیں۔ مثلاً نو چمچ شکر، نائٹروجن اور بینزین (ایک نامیاتی کیمیا جو ڈیزل آئل جلانے کے کام آتا ہے) کھانوں کے مختلف رنگ ایمونیا اور گلوکوز کی ایک مقدار شامل کی جاتی ہے۔صرف بینزین ایسا مادہ ہے جو ہمارے اعصابی نظام کو خرابی کی جانب لے جاتا ہے اور اگر ہر کھانے کے ساتھ سافٹ ڈرنک استعمال کیا جائے تو گویا ہم غذائی اجناس اور خوراک کی بنیادی حیاتین آپ ہی آپ مارنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ ایک سافٹ ڈرنک کا گلاس آٹھ گھنٹوں تک جسم میں بگاڑ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کیا اس سے بہتر پھلوں کے عرقیات نہیں؟ مگر ہمارا طرز زندگی اس قدر مصنوعی اور خطرناک حد تک غیر سائنسی ہوچکا ہے کہ ہم تعلیم یافتہ ہوکر بھی رنگوں اور ذائقوں کے پیچھے لپکتے ہیں اور سوچتے نہیں کہ کیا کیا کچھ غلط قسم کی خوراکیں کھارہے ہیں۔ ایسی غذائیں جسمانی افعال کو درہم برہم کرنے کے سوا کچھ نہیںکرتیں، پھر آج اپنی پلیٹ بنائیے ذرا محتاط اندازسے!
اس مضمون کا یہ عنوان چونکانے کے لیے نہیں محتاط رویہ اختیار کرنے کے لیے لکھا گیا ہے۔ ہوتا دراصل یہ ہے کہ ہم پرکشش رنگوں کی پڑیا میں لپٹی خوراکوں کو غذائیت بخش سمجھ کر استعمال کرلیتے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ ایسی معلوماتی تحریر یں شائع کی جائیں جو آپ اور آپ کے اہل خانہ کے لیے سود مند ثابت ہوں، اسی لیے خوراک کے انتخاب میں ذہانت کا استعمال ضروری قرار دیا جاتا ہے۔