آپ نے اکثر بچے دیکھے ہوں گے جو کمسنی ہی میں بہت ضدی، ہٹیلے اور چھوٹے ڈکٹیٹرہوتے ہیں، ان کے مطالبات ختم ہونے میں ہی نہیں آتے اور مائوں کیلئے انہیں تسلی دینا اور بہلانا مشکل ترین کام بن جاتا ہے۔ ایسے بچے والدین بالخصوص اپنی والدہ کی بے انتہا توجہ چاہتے ہیں۔ وہ ایک لمحے کیلئے بھی یہ پسند نہیں کرتے کہ ان کی مائیں اُن سے دُور ہوں۔ وہ چیختے چلاتے ‘ مسلسل روتے رہتے ہیں۔ایسے بچوں کے ساتھ والدین کا سلوک مثالی نہیں ہوتا۔باپ بچے کو ڈانٹنے لگتا ہے، کوستا ہے اور جب زیادہ ہی زِچ ہو جائے تو پھر اس کی پٹائی بھی کر دیتا ہے۔ مائیں بھی تنگ آ کر بچے سے اکثریہی سلوک کرتی ہیں۔ والدین سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ آخر ان کا بچہ ایسا کیوں کر رہا ہے۔بچہ ضد کرتا ہے، بے معنی باتوں پر چیختا چلاتا ہے، ماں کو اپنے سے دُور ہونے نہیں دیتا، شرمیلا اور کم گو ہوتا ہے، جلد اشتعال میں آ جاتا ہے اور چہرے پر ہر وقت سوگواری یا لاتعلقی سی دِکھائی دیتی رہتی ہے۔ یہ ایسی علامتیں جنہیں کبھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
والدین کے لڑائی جھگڑوں کے کمسن بچوں پر اثرات
ماہرینِ نفسیات بتاتے ہیں کہ والدین اپنے شیرخوار اور کمسن بچے کو بہت معصوم اور بے خبر سمجھتے ہیں۔ والدین کا عام طور پر خیال یہ ہوتا ہے کہ یہ تو بچہ ہے اسے کیا معلوم ہم کیا کر رہے ہیں یا اس بچے کے آس پاس کیا ہو رہا ہے۔ ماہرینِ کا دعویٰ ہے کہ جو بچے ضدی، ہٹیلے اور اپنی والدہ کی زیادہ سے زیادہ توجہ چاہتے ہیں دراصل اس کی وجہ بچے کا کوئی اپنا مرض نہیں ہوتا بلکہ تحقیقات کے ذریعے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ایسے بچوں کے والدین کی آپس میں ذہنی ہم آہنگی کم ہوتی ہے۔ وہ اکثر ایک دوسرے سے روٹھے رہتے یا لڑتے جھگڑتے ہیں۔
اپنے وجود کو بچے پر مسلط نہ کریں
ایک اور بڑی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ شیرخواری اور کمسنی کے زمانے میں والدین بچے پر اتنی زیادہ توجہ اور اتنا لاڈ پیار کرتے ہیں کہ بچہ اس کا عادی ہو جاتا ہے۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ یہ اس کا حق ہے کہ اب اس کے والدین بطورِ خاص والدہ ہر لمحہ اس کے پاس رہے، اس سے لاڈپیار کرتی رہے اور اسے اپنی توجہ کا مرکز بنائے رکھے۔والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچے کی ہر آسائش اور ضرورت کا خیال رکھیں، اس سے پیار بھی کریں لیکن اپنے وجود کو اس پر مسلط نہ کریں۔ ہر وقت اس کا سایہ بن کر اس کے ساتھ چمٹے نہ رہیں بلکہ اسے تنہا بھی چھوڑ دیں۔ اسے عادی بنائیں کہ ہر وقت والدین کی موجودگی بچے کیلئے ضروری نہیں بلکہ بچے کی ذہنی اور نفسیاتی نشوونما کیلئے اسے پورے مواقع فراہم کرنے چاہئیں۔
بچے کا مستقبل اپنے ہاتھوں سے بربادنہ کریں
پانچ ماہ تک بچہ بہت کچھ سمجھنے اور سیکھنے لگتا ہے اس کی شخصیت کی صورت گری پانچ ماہ کی عمر میں ہونے لگتی ہے۔ پانچ برس کی عمر تک وہ اپنی شخصیت کو بنا چکا ہوتا ہے۔ ایک ماہرِ نفسیات کا کہنا ہے کہ پانچ ماہ کا بچہ صبح کی طرح ہوتا ہے اور پانچ سال کا بچہ رات کی طرح۔ پانچ ماہ کے بچے کا ذہن صاف اور شفاف ہوتا ہے اب اسے جیسا ماحول ملے گا وہ ویسا ہی بنے گا‘ اگر ماحول اچھا نہیں ہوگا تو صبح کی طرح یہ روشن بچہ پانچ برس کی عمر میں رات کی طرح تاریک ہو جائے گا۔
مہربان ‘غصے‘بے نیاز اور خوشگوار چہروں کا اثر
ایک شیرخوار بچہ رو رہا ہے تو ہر کوئی اُسے بہلانے کی کوشش کرتا ہے۔ اسے باری باری گود میں اُٹھایا جاتا ہے لیکن وہ مسلسل روتا ہے اور اس کی چیخ و پکار میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے لیکن جب کوئی ایک فرد اُسے گود میں لیتا ہے تو وہ یکدم رونا دھونا بند کر کے خاموش اور مطمئن ہو جاتا ہے۔ بچہ انسانی لمس کو بڑوں سے بھی زیادہ محسوس کرتا ہے۔ وہ مہربان، ناراض، غصے اور بے نیاز چہرے کے فرق کو زیادہ محسوس کرتا ہے۔ چہرے کا تاثر اور لمس کا فرق ہے جو اُسے مطمئن کر دیتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کون اسے خلوص اور محبت سے گود میں لے رہا ہے اور کون سے افراد اسے محض چُپ کرانے کیلئے خلوص اور محبت کے بغیر گود میں اُٹھا رہے تھے۔
کم عمر ی میں نصیحتوں کا بوجھ مت ڈالیں
بچے معمہ یا اسرار نہیں ہوتے۔ وہ ایک بند کتاب کی طرح ہوتے ہیں جسے کھولنا اور پڑھنا والدین اور عزیز و اقارب کی ذمہ داری ہے۔ اپنے بچے کو ایک بہتر اورنارمل انسان بنانے کیلئے ضروری ہے کہ آپ چند بڑے بڑے اصولوں کو ہمیشہ سامنے رکھیں۔اپنے بچے کو کم فہم نہ سمجھیں۔ بچے کا مشاہدہ بہت تیز ہوتا ہے۔ وہ بول نہیں سکتا یا مناسب اظہار نہیں کر سکتا تو اس سے یہ مطلب نہ لیں کہ وہ کوئی بات سمجھتا ہی نہیں یا اس کی عمر ابھی ایسی نہیں ہے کہ افراد یا اشیاءسے اثر قبول کر سکے۔بچے پر کسی قسم کا ناجائز دبائو نہ ڈالیں اس سے پوری بے تکلفی برتیں، اپنے اعتماد سے نوازیں، کم عمری سے ہی اس پر نصیحتوں کا بوجھ نہ ڈالیں۔ جہاں مناسب ہو وہاں مناسب الفاظ میں سمجھانے کے انداز میں اس کی اصلاح کریں۔ اُسے خوف نہ دِلائیں، ڈانٹ ڈپٹ، غصے ناراضگی اور خفگی سے اس کی شخصیت میں بگاڑ یا اُلجھن پیدا نہ کریں۔بچے کے سامنے کبھی جھگڑا نہ کریں حتیٰ کہ وہ آپ کے خیال میں سو رہا ہو تو بھی اس کی موجودگی میں اپنی لڑائیوں جھگڑوں اور نفرتوں کے اظہار سے گریز کریں۔بچے کو پُرخلوص پیار اورتوجہ دیں۔بچے کے سامنے خود عمل کا اچھا نمونہ بنیں۔اسے صاف ستھرا ماحول دیں۔اگر آپ ان اصولوں کو مدنظر رکھ کر اپنے بچے کے ردِعمل کا بغور مشاہدہ کریں گے تو آپ کا بچہ ضدی نہ ہوگا نہ شرمیلا بلکہ صحت مند ذہن کا انسان بنے گا۔