محترم شیخ الوظائف صاحب السلام علیکم !میں نے گزشتہ چند ماہ پہلے عبقری رسالہ میں سے ایک شخص کی جنات کے ساتھ ملاقات اور حاضری کی تحریر پڑھی تو فوراً اپنی ایک آپ بیتی یاد آگئی۔یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب میںچہارم کلاس کا طالب علم تھا۔میرے والد صاحب درویش صفت انسان تھے ‘ ان کے پاس روحانی دولت بھی تھی۔مجھے بھی انہوں نے کچھ روحانی اعمال پڑھنے کے لئے دئیے تھے جنہیں میں نے اپنی زندگی کی ترتیب میں شامل کیا ہوا تھا۔یہی وجہ تھی جس کی وجہ سے میں کلاس کے ہونہار طالب علموں میں شمار ہوتا تھا۔میرا ایک کلاس فیلو تھا جو میرا ایک اچھا دوست بھی تھا۔مجھے کچھ عرصہ بعد معلوم ہوا کہ اس پر ایک جن قابض ہے۔جیسا کہ میں نے ذکر کیا کہ میرے والد صاحب روحانیت سے وابستہ تھے، میرے اس دوست کے گھر والوں نے جب والد صاحب کو اس کے مسئلہ سے متعلق بتایا ۔اس شخص کو اچانک دورہ پڑتا تھا جس کے بعد ایسے محسوس ہوتا جیسے اس کے اندر سے کوئی عجیب عجیب آوازیں نکال رہا ہو۔والد صاحب نے میرے اس کلاس فیلو دوست کا روحانی علاج کرنا شروع کیا۔اسے جب بھی دورہ پڑتا تو اسے کے گھر والے والد صاحب کو بلا لیتے لیکن والد صاحب کے پہنچنے سے پہلے ہی وہ شخص جس پر جن قابض تھا بھاگ جاتا یا پھر غائب ہو جاتا اور والد صاحب کےساتھ آمنا سامنا نہ ہو پاتا۔ایک دن والد صاحب نے اسے دم کیا تو اس پر شیطانی جن کی حاضری ہو گئی ‘اسے مار پڑی جس کے بعد اس جن نے نہ آنے کا وعدہ کیا۔ابھی چند ہفتے گزرے تھے کہ ایک دن سکول میں میرا اس کلاس فیلو سےجھگڑا ہو گیا۔میں نے غصے میں اسے کچھ سخت الفاظ کہہ ڈالے۔ جب رات کو میں اپنے بستر پر لیٹا تو اس کا جن اچانک میرے سامنے آگیا ‘ وہ چھوٹے قد کا جن تھا جو تقریباً اڑھائی یا تین فٹ کا ہو گا۔اس کی شکل انتہائی خوفناک تھی‘میں نے اس شخص سے جو سخت الفاظ کہے تھےاس جن کو اس بات پر مجھ پر کافی غصہ تھا‘اس کی آنکھیں غصے سے لال ہو چکی تھیں جو کافی بھیانک لگ رہی تھیں۔اس نے غصے میں مجھے دھمکیاں دینا شروع کر دیں جس کے بعد پتہ نہیں مجھے کیا ہوا اور میری چیخیں نکل گئیں۔ والد صاحب ساتھ والے کمرے میں لیٹے ہوئے تھے۔
خوفناک جن کو زور دار تھپر
میری چیخیں سن کر وہ میرے پاس وہ دوڑے چلے آئے، انہوں نے مجھے دَم وغیرہ کیا تو میری طبیعت کچھ بحال ہوئی اور ہوش و حواس قائم ہوئے۔ والد صاحب کے پاس اس وقت تین شاگرد روحانی علم سیکھ رہے تھے،اس واقعہ کے بعد انہوں نے مجھے بھی کہہ دیا کہ تم بھی رات کو میرے پاس آکربیٹھا کرو،میں نے بھی اس روحانی نشست میں بیٹھنا شروع کر دیا۔مجھے والد صاحب نے وہ روحانی دم سکھایا جو انہوں نے مجھے کیا اور لوگوں کو کرتے تھے۔ سب سے پہلے درود و سلام اس کے بعد آیت الکرسی کی مشق کروائی۔ پھر ہمیں قصیدہ رومی (کسی بھی اسلامک کتب سے مل جائے گا)یاد کروایا ‘کچھ مسنون دعائیں یاد کروائیں اور پندری کے نقش کا طریقہ بتایا، سکھایا۔ میں نےبھی ان روحانی اعمال کو اپنے معمول میں شامل کر لیا جس کے بعد جنات کا خوف میرے اندر سے ختم ہو گیا۔ایک دن ہم کچھ دوست نہر میں نہانے کے لئے گئے۔جب ہم واپس آنے لگے تو راستہ میں ایک جگہ پر اچانک وہ جن دوبارہ اپنی اصلی حالت میں میرے سامنے آگیا۔اس نے مجھے ڈرانے کی کوشش کی‘ اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کرتا میں نےاسے کہا کہ اب تم چلے جائو مجھے اور میرے سکول کے دوست کو ہر گز تنگ نہ کرنا ‘اب ہم تمہارے قابو میں ہرگز نہ آئی گے۔میری یہ بات سن کر وہ غصے میں آگیا مگر میں مطمئن رہا وہ چلّایا اور میری طرف بڑھا‘ مجھے اعمال کی طاقت پر یقین تھا میں نے بلا خوف اسے ایک زور دار تھپڑ رسید کیا جس کے بعد وہ اچانک غائب ہو گیا۔اس واقعہ کو سالہا سال گزر گئے وہ جن دوبارہ کبھی لوٹ کر نہیں آیا۔ اس کے بعد میری اور میرے دوست کی جان بھی سکون میں آگئی۔