میرے بھائی کو تیس سال پرانی خونی مسوں والی بواسیر تھی، اس کا بہت علاج کروایا‘کئی ٹیوبیں اور کریمیں لگائیں ، آپریشن کروایا انجیکشن لگوائے کہ شاید کسی طرح بھائی کی اس بیماری کا علاج ہو جائے ‘ بہت تکالیف برداشت کیں لیکن کسی طرح آرام نہیں ملا ۔ ایک دفعہ میرے بھائی کے گھر کا فرش مرمت کروانا تھا‘ کام کے لئے مستری آیا ہوا تھا۔بھائی کے دوا کھانے کا وقت ہوا تو اس وقت مستری بھی قریب ہی بیٹھا ہواتھا جو گھر کا فرش مرمت کر رہاتھا۔باتوں باتوں میں اس نے مرض کے متعلق پوچھا تو بھائی نے اسے بواسیر کے بارے میں بتایا۔اس بیماری کا سننے کے بعد مستری کام کرتے کرتے اچانک رک گیا اور بھائی کی طرف مسکرا کر دیکھ کر کہنے لگا ’’یہ تو مسئلہ ہی کوئی نہیں‘‘۔بھائی نے مستری کی اس بات پر زیادہ توجہ نہ کی لیکن مستری نے اپنی بات کو دوبارہ دہراتے ہوئے بتایا کہ بواسیر کے مرض سے متعلق میرے پاس ایک ایسا سادہ اور آسان نسخہ ہے جس سے سالوں پرانے مریض شفایاب ہوئے ہیں۔آپ بس کسی اچھی بیکری سے چائے کے ساتھ کھانے والے رس لیں اور نہار منہ اسی رس کا ناشتہ کریں،لیکن یاد رہے اسے چائے یا دودھ وغیرہ کے ساتھ نہیں بلکہ صرف خشک رس کھانے ہیں۔
بات کرنے کا انداز متاثر کر گیا
پانچ ‘سات یا نو رس خوب چبا چبا کر کھانے ہیں اور اس کے تین گھنٹے تک کچھ نہیں کھانا اور پھر تین گھنٹے کے بعد بھوک ہو تو کھانا وغیرہ کھا لیں۔ مثال کے طور پر فجر کی نماز کے بعد رس کھا لیں اور پھر تین گھنٹوں بعد ناشتہ کر لیں۔ چالیس دن یہ ٹوٹکہ کرنا ہے ، شروع میں پانچ رس کھائیں اور آہستہ آہستہ بڑھاتے جائیں اور سات یا نو رس تک کھا لیں ۔مستری کے بات کرنے کا انداز ایسا تھا اور اسے اپنے نسخے پر اس قدر یقین تھا کہ بھائی بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ میرے بھائی نے اس سے پہلےبے شمارادویات ٹوٹکے اور علاج کیے ، جس نے جو کوئی ٹوٹکہ بتایا اس نے وہی کیا لیکن یہ بیماری ایسی ضدی تھی کہ کسی طرح ختم نہ ہو تی تھی ۔بھائی نے یہ ٹوٹکہ کرنا شروع کیا تو جیسےکرشمہ ہو گیا‘ دن بدن بیماری کا زور ٹوٹنے لگا اور چالیس دن تک بیماری بالکل ختم ہو گئی ۔ بھائی کی زندگی میں سکون آگیا اور بیماری جڑ سے ختم ہو گئی۔
بھائی کی بیماری مجھے لگ گئی
کچھ سال پہلے مجھےبھی خونی بواسیر کی تکلیف شروع ہو گئی ۔ مجھے اس نسخہ کا بعد میں معلوم ہوا اس سے پہلے میں نے ایک اور نسخہ استعمال کیا تھا لیکن اس سے ایک سال آرام رہا‘وہ نسخہ بھی بتاتا چلوں جو یہ تھا کہ تارا میرا کے بیج دس روپے کے لے کر پیس لیں اور اس کی پانچ پڑیاں بنا لیں اور ایک پڑی روزانہ نہار منہ گھڑے کے باسی پانی یا مٹی کے پیالے میں پانی رکھ کر رات بھر پڑارہنے دیں اور صبح تارا میرا کے بیج پھکی اس پانی سے پھانک لیں ، اس نسخے سے مجھے ایک سال آرام رہا لیکن ایک سال بعد اس بیماری نے پھر سے سر اٹھا لیا۔بھائی کے کہنے پرجب میں نے اس مستری والا ٹوٹکہ استعمال کیا تو میرا یہ مسئلہ جڑ سے ہی ختم ہو گیا ۔ پھر اس نسخے کو میں نے کئی لوگوں کو دیا جنہیں حیران کن طور پر شفاء ملی۔ میں نے محلے میں ایک موٹر سائیکل مکینک کو استعمال کروایا اسے بھی خونی بواسیر کا مسئلہ تھا۔اس نے بھی مسلسل چالیس دن یہ نسخہ استعمال کیا جس سے اس کی بیماری بھی ختم ہو گئی ۔ مستری کا بتایا ہوا یہ نسخہ بڑے بڑے ڈاکٹروں کو پیچھے چھوڑ گیا ہے ۔