تلاش

احکام شریعت کی پابندی اور نماز باجماعت کے اہتمام کے ساتھ گناہوں اور نافرمانیوں سے بچنے کی پوری کوشش کی جائے۔ کوئی گناہ ہو جائے تو فوراً توبہ کی فکر کی جائے کہ توبہ میں تاخیر کرنا نہایت نقصان دہ ہے کیونکہ بسا اوقات گناہ کا وبال بہت جلد پکڑ لیتا ہے۔ گناہ کا وبال اور نحوست خطرناک چیز ہے۔ اس سے زندگی بڑی عبرتناک بن جاتی ہے رزق سے محرومی، صحت کی خرابی، کاروباری مشکلات، گھریلو پریشانیو ں اور ناگہانی حادثات وغیرہ سب عموماً گناہ کے ہی اثرات بد ہوتے ہیں‘ اس لیے توبہ میں تاخیر ہرگز نہ کی جائے۔ گھر کے تمام مرد و خواتین اپنے جسم و لباس کی پاکی اور طہارت کا خوب اہتمام رکھیں کہ طہارت و پاکیزگی اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اور پاک و صاف رہنے والے کے پاس رحمت کے فرشتوں کو آنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ اس اہتمام کے ساتھ اگر ہمت سے کام لے کر روزانہ رات کو سوتے وقت وضو کا معمول بھی بنالیا جائے تو بلاشبہ نفع ہی نفع ہے ورنہ سونے کی نیت سے تیمم ہی کرلیا جائے۔
اپنے گھر اور رہائش گاہ کو پاک اور صاف رکھنے کا اہتمام کیا جائے۔ ناسمجھ اور چھوٹے بچوں کو مقررہ جگہ پر حوائج ضروریہ سے فارغ ہونے کا عادی بنایا جائے۔ بچہ اگر غیر مقررہ جگہ پر غلاظت کردے تو اس جگہ کو فوراً اچھی طرح پاک کرنے کی فکر کی جائے۔ بچوں کے جسم و لباس اور بستر وغیرہ کی صفائی کا خوب خیال رکھا جائے اور گھروں کی سجاوٹ میں جانداروں کی تصاویر سے سخت پرہیز کیا جائے کہ ان تمام باتوں سے اللہ تعالیٰ کی رحمت گھر میں نہیں آتی۔ گانے بجانے ، موسیقی وغیرہ اور تفریح کے لیے ناجائز آلات سے اپنے گھر کو پاک رکھا جائے۔
گھر میں قرآن کریم کی تلاوت، ذکر و اذکار اور دین کی باتوں کا بطور خاص اہتمام کیا جائے۔ مرد حضرات تلاوت بلند آواز سے جبکہ خواتین نہایت دھیمی آواز سے کریں۔ قرآن کریم کی تلاوت سے گھر سے بلائیں نحوستیںاور بیماری و پریشانیاں دور بھاگتی ہیں۔ گھر میں اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں اور سکون و اطمینان کی دولت نصیب ہوتی ہے جس گھر میں قرآن کریم کی تلاوت ہوتی ہے ازروئے حدیث ایسا گھر آسمانوں میں خصوصی توجیہات کا مرکز بن جاتا ہے اور فرشتوں کو ایسے گھر آسمانوں میں اس طرح نمایاں چمکتے دمکتے ہوئے نظر آتے ہیں جس طرح زمین میں انسانوں کو آسمان کے تارے جگمگاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ کس قدر خوش بختی و سعادت کی بات ہے۔ اور کون صاحب ایمان ایسی خوش بختی و سعادت سے محروم رہنا چاہے گا؟ لہٰذا ہر گھر کا سربراہ نماز فجر کے بعد خود بھی اور گھر کے دیگر افراد کو بھی تلاوت کا پابند بنائے۔
عزیز رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی اور ان کے حقوق کی ادائیگی کا اہتمام رکھا جائے۔ کسی سے ناراضی ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے فوراً معافی تلافی کرلی جائے کہ اس کی برکت سے دل سے میل اور کدورت جلدی دور ہو جاتی ہے۔ کوئی تعلق توڑنا چاہے تو کم از کم اپنی طرف سے اس کے ساتھ دعا سلام اور خیر خیریت کی حد تک رابطہ برقرار رکھنے کی کوشش کی جائے اور اگر اس کے کچھ حقوق اپنے ذمے واجب ہوں تو انہیں ادا کرتے رہنے کی کوشش کی جائے۔
اپنے پڑوسیوں کے حقوق کا بہت زیادہ خیال رکھا جائے، ان کی عزت و احترام اور دکھ درد میں کام آنے کا اہتمام رکھا جائے اور اپنی طرف سے انہیں کوئی تکلیف پہنچنے نہ دی جائے۔اپنے والدین کے ساتھ ہر حال میں حسن سلوک رکھا جائے، ان کی اطلاعت و فرمانبرداری کے ساتھ ان کی مالی اور جسمانی خدمت بھی حتی الوسع کی جائے اپنے کسی قول و فعل حتیٰ کہ چہرے کے تاثرات سے بھی انہیں چھوٹی سی چھوٹی تکلیف نہ ہونے دی جائے کہ یہ حرام ہے۔اپنی ذات،قول و فعل اور اشارہ کنایہ سے بھی کسی کو کوئی تکلیف نہیں دینی چاہیے، اسی طرح کبھی بھی کسی کی بدخواہی ہرگز نہ کی جائے کہ یہ سب ایذاء مسلم میں داخل اور دوسرے کا دل دکھنے کا سبب ہے اور جو کسی کا دل دکھاتا ہے تو خود اس کا اپنا چین و سکون برباد ہو جاتا ہے۔