تلاش

محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! رمضان المبارک کی بہاریں اپنے پورے جوبن پرہیں‘ ہر مسلمان بھرپور مستفید ہورہا ہے‘ آج میں عبقری قارئین کیلئے ایک ایسا عمل لایا ہوں جس سے لاعلاج مریض صحت یاب ہوئے‘ قرآن پاک واقعی شفاء کا ایسا سمندر ہےجوالحمدللہ ہر گھر میں موجود ہے‘ مزید رمضان میں تو اسے پڑھنے کا لطف ‘ کمال اور ثواب ہی اور ہے۔ عیدالاضحی سے تقریباً آٹھ دن پہلے ایک دوست میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ ہمارے گائوں میں ایک عورت ہے اور اس کو ڈاکٹروں نے لاعلاج قرار دے کر گھر بھیج دیا ہے کہ مرض آخری مرحلے میں ہے لہٰذا مریضہ کو گھر لے جائو اور دعا کرو۔مریضہ کا مرض یہ ہے کہ اس کی ساری آنتوں میں کینسر پھیلا ہوا ہے اور نہ کوئی چیز کھا سکتی ہے نہ پی سکتی ہے۔ بہت زیادہ تکلیف میں ہے۔اللہ پاک کے فضل و کرم سے مجھے اس وقت جو سجھائی دیا وہ یہ تھا کہ اوّل آخر تین بار درود شریف اور سات بار سورئہ مومنون پارہ اٹھارہ کی آخری چار آیات اور سات بار اذان پڑھ کر مریضہ کے دونوںکانوں میں پھونک ماریں۔دوسرا عمل جو میں نے انہیں بتایا وہ یہ تھا کہ جتنا نوٹ آسانی سے میسر ہو(یعنی دس ‘ بیس ‘ پچاس‘ سو‘ پانچ سو‘ ہزار یا پانچ ہزار کانوٹ) وہ نوٹ لے کرمریضہ کے پورے بدن پر پھیریں اور رکھتے جائیں جب دس بارہ دن کے اکٹھے ہو جائیں تو صدقہ کردیں۔تیسرا عمل جو میں نے انہیں بتایا وہ یہ تھا کہ اللہ اکبر کی تین تسبیح صبح شام پڑھ کر مریضہ کے بدن کو ہدیہ کریں۔چوتھی چیز جو میں نے انہیں بتائی وہ یہ تھی کہ دودھ میں ہلدی اپنے ہاتھ سے پیس کر مکس کرکے مریضہ کو دیں۔صرف بارہ دن انہوں نے یہ تمام اعمال کیے‘ قرآن پاک کے شفائی عمل‘ صدقہ اور دودھ ہلدی نے اپنا کمال دکھایا اور اللہ پاک کے فضل و کرم سے عید پر جب اس گھر میں بکرے کی قربانی ہوئی تو وہ مریضہ جو پانی تک نہیں پی سکتی تھی اس نے باقاعدہ کھانے کو مانگا کہ بھوک لگی ہے مجھے کچھ کھانے کو دو۔ گھر والوں نے اسے کلیجی بھون کر دی تو بڑے مزے سے وہ کھا گئی ۔پورا خاندان حیرانی سے اس خاتون کو دیکھ رہا تھا‘ چند ایک کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔اس کے بعد آہستہ آہستہ وہ مریضہ دلیہ وغیرہ کھانا شروع ہوئی‘ چند ہفتوں میں ہی وہ خود بستر سے اٹھ کھڑی ہوئی‘ اللہ پاک نے اسے شفاء عطا فرمادی۔