تلاش

جانی اور مالی نقصان ہوتے ہوتے رہ گیا
محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! 2013ء میں ہمارا گھر بن رہا تھا ہمارے دو لینٹر ڈالنے تھے ہم ہر بار صدقہ کرتے تھے اور دعائیں بھی پڑھتے تھے۔ تصور سے پھونک مارتے تھے ہمارے دو لینٹر خیر خیریت سے ڈل گئے جب تیسرے لینٹر کی تیاری ہورہی تھی تو اس سے پہلے ایسے محسوس ہورہا تھا کچھ ہونے والا ہے اندر ہی اندر بہت خوف تھا یہاں تک تقریباً ایک ہفتے پہلے سے رات کے وقت روزانہ کتے رونا شروع ہو جاتے جو ہمارے پڑوس والوں نے رکھے ہوئے تھے۔ مجھے اور بھی ڈر لگتا تھا کہ یہ سب کیا ہورہا ہے۔ آخر جب لینٹر ڈالنے کا دن آیاہم نے صدقہ کیا اور میں نے بھائی سے کہا دعائیں پڑھ کر چاروں طرف پھونک مار دینا اور 50 یا 100 روپے کا گوشت لیا اور اس کو لفافے سمیت چھت کے چاروں طرف پھیر دیا پھرلینٹر ڈالنا شروع کیا تقریباً گیارہ بارہ بجے کے قریب میرے بھائی کا فون آیا کہ لینٹر کا بڑا حصہ میٹریل اور اینٹیں بہت ساری ساتھ پڑوسیوں کی چھت پر گر گیا ہے اور ان کی چھت بھی ٹوٹ گئی ہے جلدی ان کے گھر جائیں پتہ کریں کوئی نیچے تو نہیں آگیا یہ خبر ہمارے لیے قیامت سے کم نہیں تھی ۔ میری امی پڑوس میں گئی ہم اس وقت کرائے کے گھر میں تھے۔ میں سارے گھر میں بے چین بھاگ رہی تھی کہ کیا کروں؟ پتہ نہیں میں نے اس وقت کیا کیا پڑھا ہوگا یاد نہیں۔ آخر خبر آئی کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پھر بعد میں پتہ چلا جس کمرے پر لینٹر گرا تھا اور چھت ٹوٹی تھی وہ ان کا سٹور تھا بہت سارا سامان گھر کا پڑا تھا لیکن لینٹر کا سارا میٹریل اس جگہ گرا جہاں کوئی سامان نہیں تھا یہاں تک ایک گتے کے ڈبے تک کو خراش نہیں آئی جانی نقصان تو دور کی بات ہے ۔ پھر ہم نے ان کی چھت دوبارہ بنوادی لیکن یہ ساری حفاظت اور کمال صدقے کا ہے اور مسنون دعائوں کا خاص طور پر حضرت ابودرداء کی دعا ’’اَللّٰہُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ عَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَ اَنْتَ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ مَا شَآءَ اللہُ کَانَ وَمَا لَمْ یَشَاْ لَمْ یَکُنْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ اَعْلَمُ اَنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ءٍ قَدِیْرٌ وَّ اَنَّ اللہَ قَدْ اَحَاطَ بِکُلِّ شَیْ ءٍ عِلْمًا۔ اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ وَ مِنْ شَرِّ کُلِّ دَآبَّۃٍ اَنْتَ اٰخِذٌ بِنَا صِیَتِـھَا اِنَّ رَبِّیْ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ کا ہے۔ اس دعا کے بڑے کمالات ہیں کہیں کوئی جھگڑا ہو کتنا ہی زیادہ ہو اس دعا کو پڑھنا شروع کردیں کوئی نقصان نہیں ہوگا چاہے کافی دیر زبان سے لڑتے رہیں نقصان نہیں ہوگا غصہ ٹھنڈا ہو جائے گا ۔میں نے کئی بار آزمایا ہے اور اس دعا کو پڑھ کر کتنی ہی خطرناک جگہ پر چلے جائیں کوئی زہریلا جانور نہیں کاٹے گا آپ محفوظ رہیں گے۔
دنبے اور بیٹی کی جان بچ گئی
 دو سال پہلے عیدالاضحی پر میرے تایا نے دنبہ خریدا بہت خوبصورت تھا۔ جب سے میں نے آپ کی محفل میں صدقے کی اہمیت کے بارے میں سنا ہے ہم کوئی چیز نئی خریدیں ہم اس کا صدقہ ضرور کرتے ہیں چاہے دس روپے ہی کریں اسی طرح ہر عیدالاضحی پر ہم جو بھی قربانی کا جانور لیں اس سے دس روپے پھیر کر صدقہ کرتے ہیں میں نے تایا وغیرہ سے کہا آپ کا دنبہ ماشاء اللہ بہت خوبصورت ہے اس کا صدقہ کردیں نظر نہ لگ جائے۔ انہوں نے کہا ان کی بیوی میری بتائی ہوئی مسنون دعائیں بھی پڑھ لیتی ہیں۔ ایک دن انہوں نے دنبہ نہلا کر دوسری منزل پر دھوپ میں لوہے کے گارڈر کے ساتھ باندھ دیا کہ دھوپ لگ جائے۔ تھوڑی دیر بعد ان کی بیٹی چھت پر گئی۔ دنبہ ڈر گیا اور آگے کی طرف جانا شروع ہوگیا آگے خالی جگہ تھی وہاں کپڑا باندھا ہوا تھا جب وہ اس خالی جگہ کی طرف گیا ان کی بیٹی نے اس کی ٹانگیں پکڑ کر پیچھے کرنے کی کوشش کی لیکن کنٹرول نہ کرسکی اور ان کا دنبہ دو منزلوں سے نیچے گرگیا۔ چیخوں کی آواز سن کر اس کا بڑا بھائی چھت کی طرف بھاگا۔ ابھی وہ نیچے واپس بھی نہیں آیا تھا کہ دنبہ دو منزلوں سے گرنے کے بعد فوراً اٹھا اور بھاگ کر خود سیڑھیوں پر چڑھ گیا نہ اس کی کوئی ہڈی ٹوٹی نہ ہی ٹانگ یہاں تک کہ خراش تک نہ آئی لیکن جب ذبح کیا تھا تو اندرونی چوٹ صرف گوشت پر تھی۔ اللہ تعالیٰ نے مسنون دعائوں اور صدقے کی برکت سے ان کی بیٹی اور قربانی کے جانور کو بچالیا لیکن سارا دن وہ دنبہ تکلیف میں رہا تھا کچھ کھاتا نہیں تھا پھر دوائی دی لیکن بظاہر اسے کوئی خراش تک نہیں آئی تھی۔
تیزاب سے متاثرہ آنکھیں ٹھیک ہوگئیں
میرے کزن کی دکان پر یو پی ایس پڑا تھا اس کی مرمت کے لیے اس نے یو پی ایس کو ہاتھ لگایا تو کسی گڑبڑ کی وجہ سے اچانک اس کی بیٹریوں سے تیزاب نکلا اور کزن کی آنکھوں میں چلا گیا۔ آس پاس والوں نے فوراً اس کے سر پر پانی ڈالا اور ڈاکٹر کے پاس لے گئے۔ اس نے جو بھی علاج کیا گھر آئے مجھے پتہ چلا تو میں نے کہا فوراً اس کا صدقہ کریں اور سورئہ مومنوں کی آیات بتائیں وہ بہت رو رہا تھا اس کی آنکھیں ڈھلی ہوئی تھیں ایک دو دن ایسے گزرے پھر چیک اپ وغیرہ کروایا تو کچھ بہتر تھا پھر ڈاکٹر نے نظر چیک کی۔ اللہ تعالیٰ نے حفاظت کی دعائوں اور وقتاً فوقتاً صدقہ کرتے رہنے کی وجہ سے اس کی آنکھیں بچا دیں شروع میں اس نے کچھ دن عینک لگائی اب تو ماشاء اللہ عینک کی بھی ضرورت نہیں ہے کوئی کہہ نہیں سکتا اس کی آنکھوں میں تیزاب گیاتھا۔
جوان لڑکی موت کے منہ سے واپس آگئی
ہمارے محلے میں ایک جوان لڑکی نے غلطی سے زہریلی گولیاں کھا لیں جس کی وجہ سے اس کی حالت غیر ہوگئی ۔ ہسپتال لے کر گئے تو ڈاکٹرز نے جواب دے دیا کہ آپ کسی اور شہر کے بڑے ہسپتال میں لے جائیں۔ میں نے یہ خبر سنی تو اس کے لیے صدقہ کردیا جتنی میری استطاعت تھی۔ کچھ گھنٹے بعد مجھے خبر ملی کہ اس لڑکی کی حالت خطرے سے باہر ہے ۔
چاولوں کا صدقہ کیا والدہ صحت یاب ہوگئی
حکیم صاحب جو چاولوں والا صدقہ ہے وہ بھی کیا۔ میری امی بہت ہی زیادہ بیمار تھیں ہم نے چاولوں کا صدقہ کیا اس صدقے کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت ایماندار اور قابل ڈاکٹر تک پہنچا دیا اور اس ڈاکٹر کو شفاء کا ذریعہ بنادیا اور میری امی کی زندگی بچ گئی۔چاولوں کا صدقہ کرنے کاطریقہ یہ تھا کہ ہم نے اپنی والدہ کے وزن کے مطابق چاول لیے‘ان تمام چاولوں میں سے ایک مٹھی چاولوں پر اَللہُ الصَّمَدْ پڑھ کر وہ مٹھی دوبارہ چاولوں میں مکس کردی اور پھر یہ چاول دریا میں مچھلیوں کو ڈال دئیے۔ایک خاتون کا بیٹاہروقت بیمار رہتا تھا وہ مجھ سے پوچھتی تھی میں نے اسکو پڑھنے کیلئے وظائف بتائے‘ اس نے دم بھی کروائے لیکن وہ مکمل ٹھیک نہیں ہوتا تھا آخرکار میں نے اس کو یہی صدقہ بتایا اس نے کہاپھر جب میری ملاقات ہوئی تو پوچھنے پر اسنے بتایا کہ اب ماشاء اللہ کافی بہتر ہے۔