اللہ اکبر 300 بار کے کیا ہی کمالات
محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! میرے شوہر کے ایک دوست ہیں وہ اتنے بیمار ہوگئے کہ سب کچھ ڈاکٹروں پر لٹا کر اور بہت مایوس زندگی کی آخری امید لیے ہاتھ میں بہت زیادہ ٹیسٹوں کی فائلیں تھامے گھر میں ایسے داخل ہوئے جیسے بس آخری وقت ہے۔ کچھ بھی نہیں بچا۔ بیوی ناراض گھر کے حالات سے تنگ آکر میکے چلی گئی۔ جوان اولاد بھی بکھر گئی۔ باپ زندگی کی آخری سانسیں لے رہا تھا ڈاکٹر نے جواب دے دیا تھا۔ میرے شوہر نے فوراً رابطہ کیا اور میموری کارڈ میں آپ کی محفل کی ریکارڈنگ کروا کر دی۔ اللہ اکبر ان صاحب نے آپ کی محفل سنی جو دم توڑنے والے تھے‘ محفل سنتے ہی ان کے دم میں دم آگیا۔ چند دن میں 300 بار اللہ اکبر پڑھنے سے لاعلاج مریض اٹھ کھڑا ہوا۔اب آپ کی جمعرات مغرب کے بعد ہونے والی محفل کا دیوانہ ہوگیا ہے۔ اب اللہ اکبر پڑھتا ہوا گھر صاف کرنے لگا۔ کہنے لگا معلوم نہیں ہمارے گھر سے کہاں کہاں سے پرانا کوڑا نکلا اوربخار بھی اتر گیا۔ گھر بھی صاف ہوگیا اب 300 بار بلند آواز سے اللہ اکبر پڑھ کرکام پر چلے جاتے ہیں۔ کاروبار جو بالکل بند تھا روزانہ 60ہزار کی سیل ہونے لگی۔ گھر میں اللہ اکبر پڑھنے کی برکت سے خوشیاں بھر گئیں ہیں۔ بیوی جو حالات دیکھ کر چلی گئی اس کو فون کیا کہ آجائو تم بھی اللہ اکبرکے کمالات دیکھ لو وہ بھی واپس گھر آگئی۔ ان کو خواب میں آپ اپنے گھر میں سفید لباس پہنے چلتے پھرتے نظر آنے لگے حالانکہ ابھی انہوں نے آپ کو دیکھا نہ تھا۔ پھر ہم نے ان کو آپ کی تصویر دکھائی تو وہ چیخ اٹھے کہ بالکل یہی ہیں۔ اللہ کریم یہ اعمال اور دوسروں کی مدد کا فیض ہمارے اور ہماری نسلوں اور ساری امت کو نصیب فرمائے۔ آمین۔ قارئین رمضان المبارک کا متبرک مہینہ چل رہا ہے‘ آپ بھی کسی بھی نماز کے بعد صرف 300 مرتبہ اللہ اکبر اپنی بیماری‘ مسئلہ‘ پریشانی‘ مشکل کا سخت تصور کرکے پڑھ لیجئے‘ ایک مرتبہ اللہ اکبر پڑھنے سے ایک اونٹ صدقے کا ثواب ملتا ہے‘تین سو مرتبہ پڑھنے سے 300 اونٹ صدقے کا ثواب ملے گا‘ اورجو شخص تین سواونٹ صدقہ کرے گا اس کی پریشانیاں‘ مشکلات بیماریاں ‘ تنگدستی کیسے ختم نہ ہوگی۔ مزید رمضان المبارک میں ان تین سو اونٹوں کو 70 سے ضرب دے دیں۔ یعنی رمضان المبارک میں 300 مرتبہ اللہ اکبر پڑھنے سے 21ہزار اونٹ صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا تو اس رمضان چند منٹ کا عمل کرنا ہرگز نہ بھولیے اور اپنی ساری مشکلات حل کروائیے۔
بارش کے پانی کا عمل رمضان میں کیا تو کیا ہوا؟
ہم نے بارش کا پانی سارے سال کے لیے جمع کیا ہوتا ہے اور ہر رمضان المبارک میں اس پر 70درود ابراہیمی اوّل آخر اور درمیان میں 70بار سورئہ فاتحہ، 70بار آیۃ الکرسی اور 70بار چاروں قل دم کیے ہوتے ہیں۔ یہ پانی ہم پیتے ہیں اس کی برکت سے میرے تینوں بچے حافظ قرآن بنے۔ اس کے علاوہ قرآن حفظ کرنے کے بعد سکول کی پڑھائی کا گیپ جو کلاسز میں ہوئی تھیں وہ بغیر ٹیوشن کے خود ہی کور کرتے ہیں۔ جب سکول داخلے کا امتحان دینے جاتے ہیں وہ ٹیچر بہت ادب سے بچوں کو آٹھویں کے لیے منتخب کرلیتے ہیں۔ اس کے بعد بھی کوئی بچہ کسی ٹیوٹر سے نہیں پڑھتا۔ خودبخود ریاضی، انگلش اور باقی مضامین خوب اچھے یاد ہو جاتے ہیں اور ماشاء اللہ میرے بچے ہمیشہ سکول میں پوزیشن لیتے ہیں۔بورڈ کے امتحانات میں بھی میرے بچے اعلیٰ نمبروں سے کامیاب ہوئے ۔
بارش کا پانی ایک طاقت کا ٹانک بھی ہے بچے گھر کا بھاری سے بھاری کام بھی خود کرتے ہیں میرے بچے ماشاء اللہ بہت تھوڑی غذا لیکر بھی زیادہ محنت کرتے ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں شاید دیسی گھی پیا ہوا ہے مگر ماشاء اللہ بارش کا پانی پیتے ہیں۔ اس کے علاوہ میرے بچوں کی فٹنس بھی بہت اچھی ہے دبلے پتلے چاک و چوبند ہیں۔ ہم بارش کا پانی ہر بیماری کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اس کا رزلٹ ہمیشہ 100 فیصد رہا ہے۔ بخار، کھانسی، کمزوری، پٹھوں کا کھچائو بارش کے پانی میں جوہر شفاء مدینہ کا قہوہ بناکر دیتے ہیں شفاء مل جاتی ہے۔ جسمانی بیماریوں کے ساتھ ساتھ بارش کے پانی سے روحانی بیماریاں بھی دور ہوتی ہیں۔ اسی پانی کی بدولت میرے بچے حسد، لڑائی، غصہ جیسی بیماریوں سے بھی محفوظ ہیں۔ میری پہلے دو بیٹیاں پیدا ہوئی پھر میں نے بارش کا پانی پینا شروع کیا میں روزانہ منہ نہار بارش کا پانی پیتی اور پیٹ پر بھی لگاتی اور دعا کرتی یا اللہ بیٹا عطا فرما اللہ نے بیٹا ہی عطا فرمایا۔ ہم نے بارش کے پانی میں 625 بسم اللہ کا تعویز لکھ کر بوتل میں ڈال دیا ہے وہی پانی ہم استعمال کرتے ہیں۔ مجھے یاد نہیں کہ میں آخر بار ڈاکٹر سے دوائی کب لائی تھی۔ بارش کےپانی کے استعمال سے بال اترنا بند ہوگئے، آنکھوں میں چمک آگئی، دماغ روشن تیز ہوگیا ہے۔ بارش کے پانی کے استعمال سے خواتین کی پوشیدہ بیماریاں بھی ختم ہو جاتی ہے یہ میرا آزمودہ ہے۔