حال کا پتہ ہے، انجام کی خبر نہیں!
لوگ پولیس والوں کو کیا سمجھتے ہیں؟ کیا تبصرہ ہوتا ہے‘ ان کے بارے میں ہم کیا رائے رکھتے ہیں؟ لیکن حقیقت یہ ہے حال کا پتہ ہے‘ انجام کی خبر نہیں! حال تو سب نے دیکھا‘ اصل انجام ہے‘ انجام کس کا کیسے ہے؟ بہتر ہے‘ بدتر ہے‘ کم تر ہے‘ اعلیٰ ہے یا بالا ہے‘ کتنے واقعات ایسے ہیں کہ جس شخص کو ہم ساری زندگی گھٹیا‘ کردار کا بدتر‘ گفتار کا نہایت خبیث اور رذیل سمجھتے تھے وہی شخص تو باکمال وہی بے مثال انسان نکلا ہماری ظاہری نظریں جس چیز کو بہت ہی زیادہ اور جس انداز سے دیکھتی ہیں ‘ ایک ہے میری نظر ایک ہے قدرت کی نظر‘ میری نظر میں فرق ہوسکتا ہے‘ لیکن قدرت کی نظر میں کبھی بھی فرق نہیں ہوسکتا۔ قدرت کی ہرنظر میں کمال ہے جمال ہے اور لاجواب مثال ہے‘ قدرت کی ہر نظر اس کی بارگاہ میں کیسے ہے؟ آئیں میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں:۔
کردار کی کمزور خاتون قبر میں صحیح سلامت
میری نانی اماں کے گھر کے قریب ایک شخص رہتا تھا اس کی بیوی کردار کی کمزور تھی‘ بس میرے کردار کے کمزور ہونے سے آپ سمجھ جائیں‘ محلے اور گلی کا ہر فرد اس کو بہت لعن طعن کرتا تھا‘ قدرت کا نظام دیکھیں اس کو ہیضہ ہوگیا اور ایسا ہوا کہ وہ بیچاری جانبر نہ ہوسکی‘ آپ کو یاد ہوگا کہ 1973ء میں بہت زیادہ سیلاب تھا اور 73ء کی طغیانی اور سیلاب اور تباہی آج تک بھی یاد ہے‘ اسے دفن کرکےآئے‘ دفن کیے ہوئے کوئی 13 مہینے ہوگئے تھے‘ اس کی قبر کی طرف پانی گیا اور صرف اس کی نہیں اور بے شمار قبریں بیٹھ گئیں‘ ہر بندہ نے اپنی وارث کی قبر کو سنبھالا‘ اس نے بھی اپنی قبر کو سنبھالا‘ اور جب قبر کو سنبھالا کھولا تو اس کےقریب کے اسی قبرستان میں دو افراد اور بھی فوت ہوئے تھے ان کی قبر کو تھوڑا سا کھولا لیکن وہ اس قابل نہیں تھیں انہیں بند کیا لیکن اس خاتون کی قبر کو کھولا تو یہ خاتون بہت ہی زیادہ صاف ستھری کفن بالکل ٹھیک صرف بارش کا پانی قبر کے اندر بھرا ہوا تھا۔باقی اس کا کفن بھی‘ جسم بھی‘ کوئی چیز بھی نہیں بکھری تھی‘ یعنی اس کی میت اور لاش بالکل صحیح سلامت پڑی تھی‘ اس کا کون سا ایسا عمل تھا؟ توبہ تھی‘ اللہ کے سامنے زاری تھی‘ کوئی صدقہ تھا‘ کوئی نیکی تھی‘ کسی دکھیارے کی خدمت تھی‘ یا کسی بے زبان جانور کے ساتھ حسن سلوک تھا‘ آخر کیا تھا؟ کچھ تھا تو صحیح جس کی وجہ سے اس کی بخشش اور لاجواب بخشش ہوئی اور اللہ کا نظام متوجہ ہوا اور اللہ نے دنیا کو دکھایا کہ یہ میں ایسا بھی کرسکتا ہوں‘ آئیں میں ایک پولیس والے کا انوکھا اور سچا جو لاہور میں بیتا‘ واقعہ سناتا ہوں:۔
پولیس والے کا انوکھا اور سچا واقعہ
ایک مخلص نے بتایا کہ اس کا ایک دوست پوسٹمارٹم کرتا ہے‘اس کی ڈیوٹی سرکاری سطح پر ہونے والے پوسٹمارٹم اور قبرکشائی کی ہے۔ اُس سے پوچھا گیا کہ آپ نے اپنی ڈیوٹی کے دوران کبھی کوئی انوکھا واقعہ دیکھا ہو‘اس شخص نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا کہ ہاں ایک مرتبہ لاہور کے مضافاتی علاقہ میں ایک پولیس انسپکٹر کا قتل ہوا‘ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے بعد اس کی تدفین کردی گئی‘ عدالت میں کیس چلتا رہا‘ ملزم پکڑے گئے‘ تقریباً گیارہ ماہ کے بعد عدالت نے مقتول کے پوسٹمارٹم کا حکم دیا‘ ہماری ٹیم رات کو قبرستا ن میں قبرکشائی کے لیےگئی‘ قبر کے اردگرد ٹینٹ لگا دئیے گئے‘ ایمرجنسی لائٹس جلا کر قبر کی کھدائی شروع ہوئی‘ سلیپیں ہٹائی گئیں تو میں نے لائٹ قبر کے اندر کی تو میں اور میرے تمام ساتھی حیران رہ گئے کہ گیارہ ماہ سے قبر کے اندر میت ہے مگر لگتا ہے کہ آج رات عشاء کے بعد تدفین ہوئی ہو‘ میں خود قبر میں اترا‘ چہرے سےپورا کفن ہٹایا‘ کفن سے سر باہر نکالا تو جسم بالکل نرم تھا‘ سفید ڈاڑھی تھی مگر بیچ کچھ بال کالے بھی تھے‘ میں اس کے جسم کو ایسے چیک کررہا تھا جیسے کوئی کسی کی تلاشی لیتا ہو‘ کبھی پہلے دونوں ہاتھوں سے دونوں بازودبا دبا کر چیک کیے‘ پیٹ چیک کیا‘ سینے پر ہاتھ پھیرا‘ پھر ٹانگیں اور پھر پاؤںتک ہاتھ لے گیا۔ پورا جسم بالکل نرم تھا‘ کہیں اکڑاؤ نہیں تھا۔ پھر ایک ساتھی اور نیچے آیا اور ہم دونوں نے قبر سے نکال کر اسٹریچر پر ڈالا اور ہسپتال کی طرف روانہ ہوگئے۔ پھر اس کی اگلی کارروائی ہوئی‘ رپورٹ تیار ہوئی اور دوبارہ اس پولیس والے کی تدفین کی گئی۔ اس واقعہ کے بعد میری سوچ پولیس والوں کی طرف سے مکمل تبدیل ہوگئی‘ پہلے میں اس محکمے کے بارے میں کچھ اور سوچتا تھا مگر نہیں! نجانے کون سی ایسی نیکی ‘صدقہ‘ صلہ رحمی ‘ فرائض کی ادائیگی تھی کہ رب کریم نے اس شخص کو اتنا اعلیٰ مقام عطا فرمادیا۔ ہم مرنے سے پہلے کبھی بھی کسی کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے‘ کیا پتہ کوئی پولیس کی وردی میں ولایت کا تاجدار ہو اور ہم اس کے بارے میں ساری عمر بدگمان رہیں۔قارئین! ہم بحیثیت معاشرہ اپنی سوچ کو بدلیں‘ بدگمانی کا شکار نہ ہوں۔