محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم!اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی عمر میں برکت فرمائے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی محنت کو قبول فرمائیں۔ آپ کے وظائف سے ہمیں بہت فائدہ پہنچا ہمیں بہت کچھ ملا۔آپ کا درس سن کر بہت سکون ملتا ہے۔میرے نانا ابو ایک عامل تھے وہ لوگوں کا علاج کرتے تھے‘وہ کسی کے شاگرد وغیرہ نہیں بنے تھے بس کتابوں سے دیکھ دیکھ کر الٹے سیدھے عمل کرتے تھے اور لوگوں میں اپنی واہ واہ کرواتے تھے‘کسی کاگھر تڑوا دیا‘ کسی کی طلاق کروا دی‘ کسی کو عمل کرکے بیمار کردیا اور ان کاموں کے منہ مانگے پیسے لیے جاتے تھے۔ ان کو اس وقت ان کے بڑے بزرگوں نے ان کاموں سے منع بھی کیا مگر وہ باز نہ آئے۔ ان کی زندگی تک تو خاندان میں کسی کو کوئی مسئلہ نہ ہوا مگر جیسے ہی وہ وفا ت پاگئے اس کے بعد مشکلات‘ آفات پریشانیوں کے طوفانوں نے ہمارے گھر کی طرف رخ کرلیا۔
سب سے پہلی میری نانی امی بیماری ہوئیں‘ اچانک ایک دن بیٹھے بیٹھےانہیں پیٹ درد ہوا‘ دوا کھانے سےآرام نہ آیا‘ ہسپتال لے گئے‘ ٹیسٹ ہوئے تو معلوم ہوا کہ پیٹ میں کینسر ہے اور وہ بھی آخری سٹیج پر۔ ہر کوئی حیران رہ گیا کہ یہ تو صحت مند تھیں‘ چند دن شدید تکلیف میں گزارے‘ ساری رات ان کی چیخیں پورا محلہ سنتا تھا‘ اور وہ یونہی تڑپتی سلگتی اس جہان فانی سے گزر گئیں۔ میرے نانا ابو نے دو شادیاں کی ہوئی تھیں ۔ میری امی چاربہنیں تمام ہی بیمار رہتی تھیں‘ کسی کو شوگر ہوگئی‘ کسی کو کالا یرقان ہوگیا‘ کوئی جوڑوں کے درد میں مبتلا اور کسی کودماغی مسئلہ ہوا اور وہ پاگل ہوگئیں۔میری والدہ کو بھی میرے نانا کی وفات کے بعد (شادی سے پہلے) ایک عورت نظر آتی تھی جو ان کے پیٹ پر آکر بیٹھ جاتی پھر شادی کے بعد ایک عورت اور ایک مرد نظر آنا شروع ہوگئے۔ میری والدہ 30 سال سے بیمار ہیں۔ ابو نے ہر جگہ سے امی کا علاج کروایا تقریباً پنجاب کے ہر حصہ سے یہاں تک کہ پنجاب کے باہر سے بھی مگر امی ٹھیک نہ ہوسکی ۔ ہم جب بھی امی کو کسی عامل کے پاس لے کر گئے تو گھر کی چیزیں خراب ہوجاتی ہیں یا پھر کسی بچے کی ٹانگ ٹوٹ جاتی یا پھر کوئی حادثہ ہوجاتا۔ میرے ابو کا دو یا تین بار ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے جس وجہ سے ابو دماغی چوٹ لگنے سے مرگی کے مریض بن گئے۔ میری چھوٹی بہن اور بھائی کا بھی ایکسیڈنٹ ہوا دونوں کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ کچھ عرصہ بعد پھر ایک عامل کے پاس گئے تو میرا ایکسیڈنٹ ہوا سر پر چوٹ لگی اور میں آج تک ٹھیک نہ ہوئی۔
میری والدہ کی بیماری شدت اختیار کرتی گئی نہ کسی ڈاکٹر کے پاس سے آرام آتا نہ کسی عامل کے پاس سے۔ ہمارا ہر کسی سے یقین اٹھ سا گیا تھا مگر پھر ہمیں عبقری رسالہ سے آپ کے بارے میں پتہ چلا اور ہم تمام گھر والے آپ کا درس سننے کے لیے لاہور آئے۔ تسبیح خانہ آنے کی برکت اور آپ کا درس سننے سے بہت سکون محسوس ہوا اور اب ہم تمام گھر والے آپ سے بیعت بھی ہیں۔ اور آپ کے بتائے گئے وظائف بھی تمام گھر والے کرتے ہیں۔ والدہ کو جو خاتون اور مرد نظر آتے تھے اب نہیں آتے اس کے ساتھ ساتھ گھر میں عجیب سے آوازیں آتی تھی وہ بھی آنا بند ہوگئی ہیں۔ گھر کے حالات پہلے سے بہت بہتر ہوگئے ہیں۔