تلاش

محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم!میرے دادا کی عمر اس وقت تقریباً 97 سال ہے ۔ میں اکثر جب ان کے ساتھ بیٹھتا ہوں تو ان سے پرانی باتیں سنتا ہوں۔ وہ مجھے کہتے کہ میں جب جوانی میں تھا تو اس وقت دیسی گھی پانی کی طرح پیتا تھا اور گھر میں بھی دیسی گھی وافر مقدار میں موجود ہوتا تھا۔ آج میری عمر 97 سال ہوگئی ہے صرف بڑھاپے کی وجہ سے کمزور ہوں ورنہ میرے جوڑوں میں آج بھی درد نہیں ہوتا۔ دیسی گھی ہی واحد کشتہ تھا جس سے میں آج تک جسمانی دردوں سے محفوظ رہا ہوں۔ لیکن اب اس جیسا دیسی گھی نہیں ملتا چاہے جتنا مرضی ڈھونڈو ۔ میں نے کہا داداجی اس وقت بھی دیسی گھی موجود ہے اور وہ دیسی گھی عبقری دواخانہ کا تیار کردہ ہے میرے ایک دوست نے استعمال کیا تھا بہت تعریف کررہا تھا ۔ میں اس کے گھر گیا تو اس نے مجھے دیسی گھی کے پراٹھے تیار کرکے کھلائے واقعی وہ خالص تھا میں کل ہی لے کر آتا ہوں پھر آپ چیک کروائوں گا۔ میں اگلے دن ہی عبقری دواخانہ گیا ایک کلودیسی گھی لیا اور سیدھا دادا جی کے پاس آیا اور ڈبہ کھول کر ان کے سامنے کردیا دادا جی نے ناک سے لگایا اور کچھ دیر سوچنے کے بعد کہنے لگے اس میں سے تین چمچ نیم گرم کرکے ایک کپ میں لائو میں نے فوراً تین چمچ گرم کیے اور کپ میں ڈال کر لے آیا ۔ دادا جی نے پہلی چسکی لگائی دوسری لگائی اور دوسری چسکی کے بعد کہنے لگے آج بہت عرصے بعد اصل دیسی گھی کھانے کو نصیب ہوا ہے ۔ واقعی یہ بہت ہی زبردست اور خوش ذائقہ ہے۔ آج مجھے پرانے وقتوں کی یاد آگئی۔ (اسد رفیق، کوٹ خواجہ سعید لاہور)