تلاش

محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! بعض لوگ بچوں کے حوالے سے کافی پریشان ہوتے ہیں‘ ان کی شرارتوں سے تنگ آکر ان کو ڈانٹے ہیں‘ مارتے ہیں خود کڑہتے ہیں‘ میں عمر گزار چکا ہوں‘ بچے بڑے ہوگئے ہیں جب ایسے کسی والدین کو دیکھتا ہوں تو ہنستا ہوں اور ان کو سمجھاتا ہوں کہ بچوں کو مارنا‘ ان کے سامنے جذباتی ہونا‘ ان پر کڑہنا چلانا ان کو مزید بدتمیز اور شرارتی بنارہا ہے۔ میں آج قارئین کو کچھ اہم باتیں بتاتا ہوں یقیناً زندگی میں ان کے کام آئیں گی۔ قارئین! اصل میں شرارتی بچے بہت ذہین ہوتے ہیں اور ان کا آئی کیو لیول والدین سے کئی گنا زیادہ ہوتا ہے اسی لیے ایسے بچے والدین کے قابو میں نہیں آتے یا ان کو آسان الفاظ میں کہوں تو بات نہیں مانتے اور اپنی من مانی کرنے پر تُل جاتے ہیں ایسے بچے کے ساتھ بہت احتیاط سے پیش آنا پڑتا ہے کیونکہ اکثر اوقات ایسے بچے منہ پر ہی کھری کھری سنا دیتے ہیں اور بندہ کھری کھری سن کر ہقا بقا رہ جاتا ہے ایسے بچوں پر ہمیشہ پیار کی نظر رکھنی پڑتی ہے ‘ وہ کس موڈ میں ہیں اور ان کے ساتھ کیسے بات کی جائے‘ اکثر لوگ ایسے بچوں کی شرارتوں کی وجہ سے اس بچے کا نام لینے کے بجائے اسے  شرارتی بچہ کہہ کر پکارتے ہیں ایسا کرنا انتہائی غلط ہے‘ ہم بچوں کی شرارتوں پر ہنس تو سکتے ہیں لطف اندوز ہوسکتے ہیں مگر بدتمیزی پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے کیونکہ اس بات سے ماں باپ کی تربیت پر حرف آتا ہے خیر بات ہے بدتمیزی کی سب سےپہلے تو یہ کہ بچہ شرارت یا غلط کام کرتا کیوں ہے؟ بچہ توجہ چاہتا ہے وہ ماں کی یا اپنے باپ یا 
دوسرے گھر والوں کو اپنی طرف توجہ دلانے کیلئے جان بوجھ کرالٹا کام کرتے ہیں سب سے پہلے ان کے غلط کاموں پر فوراً مارا نہ جائے بس انہیں ہلکا سا ڈانٹ دیا جائے‘ سرزنش کردیں مگر ایک دم جذباتی نہ ہوں آپ کے جذباتی ہونے سے بچے کو مزہ آئے گاوہ بار بار آپ کو طیش دلواتا رہے گا مگر جب بچہ دیکھے گا کہ میری ماں تو مطمئن ہیں جذباتی نہیں ہورہی تو سوچے گا ضرور اور حرکت دوبارہ نہ دہرائے گا (یہ آزمائی ہوئی بات ہے) ایک اور بات جب والد رات کو کھانا کھا کر فارغ ہوجائے تو اسے چاہیے کہ بچے کے ساتھ مل بیٹھ کر اس کے سکول کی باتیں یا پھر اس کے دوستوں کی باتیں کریں اس سے کیا ہوگا بچہ گھل مل جائے گا اسے شیئرنگ کی بھی عادت ہوجائے گی ‘وہ آپ سے دوستانہ ماحول میں بات کرنا بھی سیکھ جائے گا اور آپ کی بات مان کر خوش ہوگا۔چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں عمل کیجئے فائدے بڑے ملیں گے۔