تلاش

یک دانش ور صاحب کسی اللہ والے کی زیارت کے لیے گئے۔ حاضرین مجلس نے ان کا بڑا احترام کیا اور لوگوں نے اس اللہ سے ان کا تعارف اس طرح کرایا کہ یہ اس وقت سب سے زیادہ باکمال اور صاحب علم ہیں۔ بزرگ نے دریافت فرمایا: ’’سب سےزیادہ انہیں کس علم میں کمال حاصل ہے؟‘‘ لوگوں نے کہا: ’’علم نجوم میں‘‘ یہ سنتے ہی بزرگ کو بڑی کوفت ہوئی۔ انہوں نے جواب میں ارشاد 
فرمایا: ’’میرا خیال ہے کہ سفید گدھا ان سے زیادہ علم نجوم کا ماہر ہوتا ہے‘‘ بزرگ کی اس گفتگو سے انتہائی برہم ہوا اور درویش کو حقیر جان کردانش ور اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے گھر کو روانہ ہوگیا۔ اتفاق سے اس سفر میں ایک گدھے والے کے مکان پررات بسر کرنا پڑی۔ دانش ور نے مکا کےباہر صحن میں اپنا بستر جمایا تو ایک دم گدھے والا کہنے لگا: ’’آپ مکان کے اندر بستر لگائیں کیونکہ عنقریب بڑی خوفناک بارش ہونے والی ہے اور سیلاب کا خطرہ ہے‘‘دانشور اس کی بات سن کر بڑا حیران ہوا اور اس سے پوچھ تمہیں کیسے علم ہوا کہ بارش ہونے والی ہے‘‘گدھے والے یہ جواب دیا: صاحب میرا یہ سفید گھا جس رات تین مرتبہ اپنی دم آسمان کی طرف اٹھا دیتا ہے تو رات بھربارش نہیں ہوتی اور جب یہ اپنی دم زمین کی طرف جھکا کر ہلاتا ہے تو میرا برسوں کا تجربہ ہے کہ اس رات ضرور زور دار بارش ہوتی ہے۔ چنانچہ واقعی تھوڑی دیر کے بعد ہی بارش شروع ہوگئی اور قریبی ندی میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی۔ اب دانشور کو خیال آیا کہ واقعی اس درویش اللہ والےنےسچ فرمایا تھا گدھا مجھ سے زیادہ علم نجوم جاتا ہے۔ لہٰذا صبح ہوتے ہی یہ واپس اسی درویش کےپاس گیا اور جاکر اپنی گستاخی کی معافی مانگی۔ واقعی اللہ والے کی ماننے میں ہی خیر ہوتی ہے ورنہ رب جاگتی آنکھوں سےاوقات دکھا دیتا ہے۔