ہمارے معاشرے کی ستم ظریفی ہے کہ عموماً جب کسی گھر میں بیٹی ہوتی ہے تو بعض خاندانوں میں لوگ شرم محسوس کرتے ہیں‘شرم کے بارے میں ایک دوسرے کو مبارکباد نہیں دیتے۔ایک دوسرے سے آنکھیں چراتے ہیں جس کا سارا گناہ اور قصور ماں کے کھاتے میں ڈالددیا جاتا ہے۔بلکہ یہاں تک بھی دیکھنے ‘ سننے اور پڑھنے میں آیا ہے کہ بیٹی کی ماں کو گھر سے نکال دیا جاتا ہے۔نوبت طلاق تک آجاتی ہے۔یوں گھروں میں لڑائی جھگڑے اور فساد برپا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔اس کے برعکس ایک روایت میں آتا ہے کہ جب اللہ پاک کسی کے گھر پر نظرِ کرم فرماتے ہیں تو اس گھر میں بیٹی بھیج دیتا ہے اور فرماتے ہیں کہ جا تواس گھر میں چلی جا تیرے باپ کی ہر طرح کی معاونت نہیںکروں گا۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ گھر میں بیٹی کا آنا کتنا بابرکت اور با سعادت ہوتا ہے۔اب میں عبقری قارئین کے لئےایک آنکھوں دیکھا واقعہ تحریر کر رہا ہوں جو سوفیصد سچاہے اورہمارے اپنے خاندان کا ہے۔
میرا چھوٹا بھائی کافی عرصہ ایک گورنمنٹ کالج میں لیکچرار ہے۔ان کی اہلیہ بھی ایک سرکاری سکول میں ٹیچر کی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ان دونوںکو اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹا اور ایک بیٹی عطا فرمائی ہے۔حال ہی میں اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاں دوسری بیٹی کی پیدائش ہوئی۔بیٹی کی آمد سے ان کےزندگی میں ایسی برکات آئیں کہ سب حیران ہیں۔
بیٹی کا گھر میں آنا تھا کہ اس گھر اور ان کی زندگی میں برکتوں اور رحمتوں کا نزول شروع ہو گیا۔اس بچی کو اس گھر میں آئے ابھی ایک مہینہ بھی پورا نہ ہوا تھا کہ بھائی جن کی کافی عرصہ سے ترقی رکی ہوئی تھی ان کی ترقی ہو گئی‘انہیںاٹھارویں گریڈ پر ترقی مل گئی اور وہ اسسٹنٹ پروفیسربن گئے۔یہ ترقی بھائی کے مستقبل کے لئے بہت ضروری تھی کیونکہ اگر انہیں مزید کچھ عرصہ ترقی نہ ملتی تو ان کا ٹرانسفر کسی دوسرے شہر کے کالج میں کردیا جاتا جس وجہ سے وہ گھر والوں سے دور ہوجاتے کیونکہ ان کی اہلیہ بھی اس شہر میں ٹیچر کی خدمات سر انجام دے رہی تھیں‘اس لئے انہیں کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا مگر اللہ تعالیٰ نے بیٹی کی برکت سے انہیں مشکلات کے بجائے آسانیاں اور دکھوں کے بجائے خوشیاں عطا فرمائیں۔اس کےعلاوہ انہیں رزق میں بہت زیادہ برکت ملی۔سچ کہتے ہیںبیٹی جب گھر میں آتی ہے تو اپنا رزق اور نصیب بھی ساتھ لے کر آتی ہے۔انہیں دیکھ کر مجھے احساس ہوا اور خواہش ہوئی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس نعمت سے سرفراز کرے تاکہ اللہ پاک کی رحمتوں اور برکتوں سے محروم نہ رہے۔
میری والدین سے بھی گزارش ہے کہ خدا جب ان کے گھر میں بیٹی آئے تو مایوسی کے بجائے اللہ پاک کا شکر ادا کریں کہ اللہ پاک نے ان کے گھر میں اپنی رحمت بھی دی ہے۔ذرا ان والدین سے پوچھیں تو دیکھیں جو بیٹی کے لئے ترستے ہیں۔بیٹی دینا‘بیٹا دینا یا کچھ بھی نہ دینا ‘ یہ اللہ پاک کی اپنی قدرت کاملہ ہے۔اس میں کسی کا قصور نہیں ہوتا۔اللہ پاک ہم سب کو بیٹی کی قدر عطا فرمائے‘ آمین!