تلاش

کہا جاتا ہے کہ شادی کرنا آسان ہے لیکن شادی کے بعد اسے خوشگوار انداز سے نبھاتے رہنا اور برقرار رکھنا بہت دشوار ہو جاتا ہے۔ اسی لئے یہ ضروری ہے کہ لڑکی سسرال میں آتے ہی محتاط ہو جائے۔ اسے بہت ہوشیاری اور عقلمندی سے کام لینا پڑتا ہے۔اسے اپنے سسرال میں ایک سلیقے کی اور پرسکون زندگی گزارنے کے لئے صحیح منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ایسی باتیں جن پر عمل کر کے وہ اپنے آپ کو خوش رکھ سکتی ہے۔مثال کے طور پر اپنے شوہر کو اپنے خوابوں کا شہزادہ تصور نہ کریں۔ یعنی اس سے بہت زیادہ توقعات وابستہ نہ کرلیں۔ وہ بھی انسان ہے۔ کبھی کبھی آپ کی خواہش اور آپ کے ارمانوں کے خلاف بھی کوئی کام کر سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ نے اس سےبہت زیادہ امیدیں وابستہ کر رکھی ہوںاور جب معاملہ برعکس ہوگا تو آپ کو صدمہ پہنچے گا۔
اپنے نظریات شریک حیات پر مسلط نہ کریں
اپنے نظریات خیالات اور انداز کو اپنےشوہر پر مسلط کرنے کی کوشش نہ کریں۔ اگر اس کی کچھ عادتیں آپ کو نا پسند ہیں تو آپ فوری طور پر ان عادتوں کو تبدیل نہیں کر سکتیں۔نئی نئی شادی ہوئی ہے۔اس کی کسی بات میں خامی نکالنے کی کوشش نہ کریں۔ یعنی تم نے کیسا کپڑا پہن رکھا ہے۔ یا تم کیسی بے کار خوشبو استعمال کرتے ہووغیرہ ۔آپ کا فوری طور پر ٹوکنا اور تنقید کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ ابھی بہت وقت ہے۔آپ اپنی پسند کے لباس پہنا سکتی ہیں۔ اپنی پسند کا سوٹ تحفے میں دے دیں یا کسی تہوار کے موقع پر اپنی پسند کا لباس سلوا دیں۔ اس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ جان جائے گا کہ آپ کی پسند اور نا پسند کیا ہے۔لیکن اس کے ساتھ ہی آپ خود پر بھی تنقید برداشت کرنے کے لئے تیار رہیں۔
ساس اور شوہر کی تعریف کریں
ان حالات میں بہتر یہی ہے کہ آپ بھی خود کوبدلنے کی کوشش کریں ‘گھر کو صاف ستھرا اور چیزوں کو سلیقہ سے رکھیں اور خود کو اس کا عادی بنا لیں۔آپ کو یاد رکھنا چاہئے کہ آپ اس گھر کی بہوہیں۔ اس لئے ہر شخص کی توقعات آپ سے وابستہ ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کو ہر فن مولا سمجھا جائے ۔ خیال کیا جائے کہ آپ بہترین کھانے بنالیتی ہوںگی۔ یہ اور بات ہے کہ آپ نے کبھی کچن میں جھانکابھی نہ ہو۔ جب ایسی صورتحال ہو تو اس وقت آپ کو حکمت بصیرت سے کام لینا ہوگا۔یعنی ساس کے ساتھ میٹھی باتیں کریں۔ ان سے کہیں کہ انہیں صرف آپ ہی کے ہاتھ کا کھاناپسند ہے۔ یا پھر یہ کہ خدا نے آپ کے ہاتھوںمیں غضب کا ذائقہ دیا ہے۔ آپ مجھے بھی سکھائیں کہ آخر کس طرح کھانے بناتی ہیں۔ میں آپ سے سیکھنا چاہتی ہوں۔یہ ہر انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنی تعریف سن کرخوش ہو جاتا ہے۔ آپ کی ساس کو بھی یہ احساس ہوگاکہ آپ نے اس کی بڑائی اور اس کے ہنر کا اعتراف کر لیا ہے۔ اس لئے وہ آپ کو سکھانے لگیں گی۔ کچن میں اپنی ساس کی ضرور مدد کریں۔اس طرح آپ دونوں کے درمیان مفاہمت پیدا ہو جائے گی اورآ پ اس گھر کی پسندیدہ بہو ہو جائیں گی۔گھروں میں مہمانوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔اس لئے مہمانوں کی آمد پر برے منہ نہ بنائیں۔آپ کی نئی نئی شادی ہوئی ہے۔ لوگ ملنے کے لئے آرہے ہیں۔آپ کے بھی عزیز اقارب آسکتےہیں اور آپ کی بھی توقع ہوگی کہ جب وہ لوگ آئیں تو آپ کے سسرال والے ان کے ساتھ خوش دلی سے پیش آئیں۔ بس یہی انداز شوہر کےرشتے داروں کے ساتھ آپ کا بھی ہونا چاہئے۔ یہ نہ سمجھنے لگیں کہ سسرال میں آپ کی تعریف ہونے لگے گی۔آپ خود کو بہتر سے بہتر انداز میں پیش کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔ بہت ممکن ہے کہ ابتدا میں آپ کی خامیوں پر گہری نگاہ رکھی جائے۔ ہر بات اور ہر کام میں اعتراض کیا جائے۔ بس اس کے لئےتیاررہیں پورے گھرانےکو ساتھ لے کر چلیں۔ آپ اس گھر کی بہو ہیںجس کو وہ لوگ سنجیدہ اور ذمہ دار دیکھنا چاہتے ہیں۔
خوابوں کی دنیا سے نکل کر حقیقت کا سامنا کریں
عام طور پر نوجوان لڑکیاں اپنے شاندار سسرال کے اور اپنے شوہروں کو شہزادوں یا فلم اداکاروں جیسا دیکھتی ہیں کہ ان کی آئندہ زندگی کسی خوبصورت فلم کی طرح خوبصورت ہوگی۔لیکن انہیں یہ جان لینا چاہئے کہ زندگی خوابوں کا نام نہیں ہے۔ اس میں تلخ حقائق بھی ہوا کرتے ہیں۔شادی ہوتے ہی آپ کی اپنی انفرادیت کہیں گم ہو جاتی ہے۔ اور آپس سرال والوں کے زیر اثر جاتی ہیں۔ سسرال میں موجود ہر شخص آپ کو اپنی پسند اورمعیار کے پیمانے سے ناپنے کی کوشش کرتا ہے۔اب یہی وقت ہوتا ہے کہ آپ سمجھداری سے کام لیتے ہوئے اپنی ساس اور نندوں کو اپنا ہم خیال بنالیں۔اگر آپ یہ سمجھتی ہیں سسرال جاتے
ہی پورے گھر کو اپنی مرضی پر چلانے لگیں گی۔ آپ ان کواپنا ہم خیال بنالیں گی۔ ان کی عادتیں تبدیل کردیں گی تو ایسا ہونا بہت مشکل ہے۔ کم از کم فوری طور پر ۔ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ آپ کی اچھی عادتیں آہستہ آہستہ ان کے دلوں میں گھر کرتی جائیں۔ اور وہ آپ کے جذبے کو سراہتے ہوئے آپ جیسا بننےلگیں۔ یادرکھیں کہ آپ اگر شاندار عادتوں کی مالک
ہیں۔ آپ کی شخصیت میں کشش ہے تو یقینا آپ کی تعریف کی جائے گی۔آپ کے شوہر کو آپ پر فخر محسوس ہوگا ۔ آپ کی سسرال والے آپ کی تعریف کریں گے۔ یہ اور بات ہے کہ یہ سب آپ کے سامنے نہ ہو۔ آپ کے غائبانہ میں ہو۔ لیکن ہو گا ضرور بہت ممکن ہے کہ سرال والے کسی بات پر آپ کے میکے کو برا بھلا کہنے لگیں۔ اس وقت بہت کی لڑکیاں اپنے والدین اور بہن بھائیوں کی حمایت میں لڑنا شروع کر دیتی ہیں۔ آپ ایسا نہ کریں۔ بلکہ صبر اور تحمل سے کام لیں۔ سچائی کو سمجھنے کی کوشش کریں۔بہت ممکن ہے کہ ان کی باتوں میں کچھ سچائی ہو۔ یاہو سکتا ہے کہ وہ غلطی پر ہوں۔ ان کی پوری بات سن لینے کے بعد آہستگی اور نرمی سے اپنا نقطہ نظر بیانکریں۔ ان کے ساتھ جھگڑا کرنا کسی طور مناسب نہیں ہے۔بہر حال شادی پھولوں کی سیج بھی ہو سکتی ہے اورکانٹوں کا بستر بھی اور یہ صرف آپ پر منحصر ہے کہ آپ اپنی شادی کو اپنے رویئے اور اپنی حکمت عملی سے کتنا کامیاب بناتی ہیں۔